ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 237 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 237

شریعت میں اس کے جواز کے لیے حیلے بہانے تلاش کرنے لگا۔تب میں نے یہ علاج کیا کہ چھوٹی چھوٹی حمائلیں قرآن شریف کی لے کر اپنے سامنے اور اردگرد ایسے مقاموں پر لٹکادیں جہاں کہ جلدجلد میری نظر پڑتی رہے اور اپنی جیبوں میں بھی میں نے رکھ لیں۔جب اس گناہ کا میرے دل میں خیال پیدا ہوتا تو ان حمائلوں میں سے کسی ایک کو دیکھتا اور کہتا کہ دیکھ تو اس کتاب پر ایمان لایا ہے اور پھر اس قسم کا خیال تیرے دل میں آتا ہے۔پھر فرمایا کہ ایسا کرنے سے مجھے شرم آجاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وہ خیال میرے دل سے دور کردیا۔بد صحبت سے بچو فرمایا کہ بری صحبت انسان کو بہت خراب کرتی ہے۔ایک شخص نے جو بہت ہوشیار ہے مجھے خود بتلایا کہ ہمیں یہ معلوم ہوا کہ فلاں شخص کے گھر لوہے کے صندوق میں بڑا زیور اور روپیہ ہے۔ہم اس مکان پر …چڑھ گئے اور بڑی محنت و مشقت سے اس صندوق تک پہنچے مگر اس گھر کی مالکہ ایسی ہوشیار نکلی کہ اس نے روپیہ اور تمام زیور صندوق کے نیچے زمین میں گاڑ رکھا تھا اور اوپر صرف خالی صندوق رکھ دیا تھا۔ہم صندوق کو مال سے پُر سمجھ کر بمشکل تمام اٹھالائے جب کھولا تو خالی پایا۔ہم لوگ پکڑے گئے پولیس کے حوالے ہوکر جیل خانے میں پہنچے۔جب وہ گئے تو دوسرے قیدی لگے ہم سے سرگزشت پوچھنے۔جب انہوں نے سنا کہ ہم نے اس طرح سے دھوکا کھایا ہے تو لگے وہ ہر طرف سے تدبیریں بتانے کہ اگر اب کی مرتبہ چھوٹ کر جاؤ گے اس طرح کرنا اور اس طرح کرنا۔فرمایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدکار لوگ بڑی بڑی بدیاں سکھاتے ہیں۔پھر فرمایا کہ ایک ڈاکو جو بڑے ڈاکوؤں کا سردار تھا اور سرکار نے اسے دوسرے ڈاکوؤں کے پکڑنے کے لیے نوکر رکھا ہوا تھا مجھے ملا۔اس سے میں نے دریافت کیا کہ تم نے کس قدر خون کیے ہیں؟ فرمایا کہ اس نے مجھے جواب دیا کہ کوئی تعداد نہیں۔نہ بچہ چھوڑا، نہ بوڑھا، نہ جوان ، نہ عورت، نہ مرد، نہ فقیر، نہ امیر، غرض یہ کہ جو سامنے آتا تھا اسی کو قتل کرڈالتا تھا۔فرمایا۔میں نے اس سے سوال کیا کہ کبھی کسی کو قتل کرتے ہوئے خدا کا خوف بھی آیا ہے یا نہیں؟ کہنے لگا کہ مولوی صاحب! خدا کا خوف انسان کو اس وقت آتا ہے جبکہ وہ تنہا ہو۔تنہائی میں مجھے بھی خدا کا خوف آتا ہے مگر جب