ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 236 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 236

آگ میں ڈالتے تھے اس کو سوختنی قربانی کہتے تھے۔تورات میںبڑا لکھا ہے وہ جو خیال ان کا تھا کہ جو رسول آوے گا وہ ہماری سوختنی قربانی کا رواج بھی دے گا وہ پورا نہ ہوا اس واسطے انکار کردیا۔اب بھی لوگ ایک خیالی تصویر دل میںبٹھالیتے ہیں۔ہجکہ (بھیرہ کے متصل ایک چھوٹا سا گاؤں ہے) کا ایک فقیر شیعہ تھا اس کا نام حیدر تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ امام مہدی جب آویں گے تو تم ان کو کس طرح پہچانو گے؟ اس نے کہا کہ ان کی یہ پہچان ہوگی کہ ان کے آگے آگے سوالاکھ فقیر متہریں (بھنگ گھوٹنے والے ڈنڈے) اٹھا کر ناچتے آویں گے۔(ماخوذ از بدر منور۔البدر جلد۱۲ نمبر۱۵ مورخہ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ۳) تعلیم کا شوق ۵ا؍ کتوبر ۱۹۱۲ء بوقت صبح حضرت امیرالمومنین نے ڈاکٹر الٰہی بخش کے صاحبزادے بابو بشیر احمد صاحبکو جو کالج لاہور جاتے تھے رخصت کرتے ہوئے فرمایا کہ نیک مجلسوں میں رہو، جاؤ اور پڑھو، بار بار گھر کو نہیں دوڑنا چاہیے۔بیمار بھی لڑکے ہوہی جایا کرتے ہیں۔میرے باپ نے تو مجھ کو کہا تھا کہ اتنی دور جاکر پڑھو کہ ہمارے مرنے کی خبر بھی تم کو نہ پہنچ سکے۔گناہ سے بچنے کا ذریعہ فرمایا کہ میں نے کئی ایک بزرگوں سے خود دریافت کیا ہے کہ انسان گناہ سے کس طرح بچ سکتا ہے؟ مولانا مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے فرمایا کہ انسان موت کو یاد رکھنے سے بچ جاتا ہے۔ایک میرے استاد میرے پیر تھے جن سے میں بیعت بھی تھا اور ان کا نام عبدالغنی تھا انہوں نے فرمایا کہ جو انسان ہر وقت خدا تعالیٰ کو سامنے رکھتا ہے وہ بچ جاتا ہے۔مرزا صاحب مسیح موعود علیہ السلام بھی میرے پیر ہی تھے ان سے بھی میں نے بیعت ہی کی ہوئی تھی ان سے میں نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ آدمی بہت کثرت سے استغفار کرنے سے بچ جاتا ہے۔مدت کی بات ہے ایک مرتبہ میرے دل میں ایک گناہ کا ارادہ ہوا۔یہاں تک کہ میرا نفس