ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 235
شکل آجاوے گی مگر پھر جب اس کو دیکھتے ہو تو کیا فی الواقعہ ویسی ہی تصویر ہوتی ہے جو تم نے اپنے ذہن میں تجویز کر رکھی تھی؟ ہرگز نہیں بلکہ اور ہوتی ہے۔اس سے میں نے ایک نتیجہ نکالا۔جب میں نے اللہ کا نام سنا تو دل میںتصویر بنی تو اللہ نے مجھے سمجھایا کہ دنیا میں یہ قاعدہ نہیں ہے اس واسطے جو خیالی تصویر تو نے باندھی ہے یہ غلط ہے۔ایک تو مجھے یہ فائدہ پہنچا جب میرے دل میں خیال آیا وہ ایسا ہوگا ویسا ہوگا تو میرے دل نے کہا کہ یہ تو تمہارا تجویز کردہ خدا ہے۔اللہ کی صفتیں سنتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں مگر اللہ کی بابت یہ کبھی خیال نہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم نے اپنے دل میں سوچ رکھا ہے۔دوسرا فائدہ یہ پہنچا ہے کہ اگلے زمانہ میں جب ہم چھوٹے تھے تو سنا کرتے تھے کہ حضرت (عیسیٰ) علیہ السلام آویں گے ایسے ہوں گے ویسے ہوں گے۔غرض کہ یہ سب باتیں سن کر احمقوں نے جو دل میں ایک تصویر بنالی تھی اس کو عین سمجھ لیا اور مرزا صاحب کا انکار اسی بنا پر کیا گیا کہ وہ ان کی خیالی تصویر کے مطابق نہ اترے۔انہوں نے دیکھا کہ وہ تو ایک ہماری طرح ہی آدمی ہیں۔ہمارے پاس لوگ بیمار آتے ہیں وہ بھی دل میں کئی کئی خیال جما کرآتے ہیں کہ وہ ایسے ہوں گے اس طرح بیٹھے ہوں گے پھر دیکھنے کے وقت انہیں ہم ایک معمولی انسان نظر آتے ہیں۔اس قاعدہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک حکمت رکھی ہوئی ہے اور اسی واسطے اللہ تعالیٰ وہ خیالی تصویر رہنے نہیں دیتا تاکہ خدا کی نسبت غلط خیال نہ بیٹھ جاویں۔اس سے مجھے مرزا صاحب کے ماننے میں ذرا بھی دقت نہ ہوئی۔خیالی تصویر تو ہم نے بنائی ہوئی نہ تھی حدیث والے خط و خال ہم کو مل ہی گئے۔یہ تمہید میں نے اس واسطے بیان کی ہے کہ یہودیوں اور ہندوؤں اور آریوں اور اگنی ہوتر اور مجوسیوں میں ایک رواج ہے کہ زمین میں ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر عمدہ لکڑیاں اس میں جلادیتے ہیں اس کو اگنی کُنڈ کہتے ہیں۔عربی میں اَجْ آگ کو کہتے ہیں۔گویا آگ یا اگ لفظ کااَجْ معرب ہے۔لوگ گرد بیٹھ جاتے ہیں صندل اور کستوری اور زعفران اور عود، گھی، شہد ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے پھر کچھ پڑھ کر آگ میں ڈال دیتے ہیں۔ان کی قربانی کو آگ کھا لیتی ہے۔یہودی لوگ بکرا ذبح کرکے