ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 234 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 234

کسی تحریر میں کوئی ایسا فقرہ جو کسی کے خیال میں حضرت کی تحریر کے مخالف ہو تفرقہ اور مخالفت کا باعث نہ بن جاوے۔بڈھا ہوں، مدت سے بیمار ہوں، ضعیف ہوں، زندگانی کا اعتبار نہیں۔میں تو ہر روز رات کو مرتا ہوں۔حیاتی کا تو کسی کو بھی علم نہیں۔پس میں اپنے ان تھوڑے دنوں میں اس چھوٹی سی جماعت میں تفرقہ کرنا ناپسند سمجھتا ہوں۔اس کو آپ اخلاقی کمزوری یا عدم جرأت یا کوئی نیک ظنی سمجھ لیویں۔میں عدیم الفرصت اور آپ کو لکھنے کا شوق ہے اور لکھنا آتا ہے آپ مجھے خط نہ لکھا کریں۔آپ نے لاہور میں جو روپیہ مجھے دیا تھا آپ اس کی نسبت تعجب کریں گے کہ میں نے اب تک وہ روپیہ الگ کا الگ کر رکھا ہے۔بحمد اللہ میں کماتا ہوں اور دوکان بظاہر طب کی بنائی ہوئی ہے۔تم نے لکھا ہے کہ میری طرف اس میں اشارہ ہے۔میں نے لکھا ہے کہ اس میں آپ کی نسبت اشارہ نہیں ہے حالانکہ میں اپنی طرز میں مناسب نہیں سمجھتا تھا مگر جن کی طرف اشارہ تھا اس کا نام بھی آپ کی طرف لکھ دیا۔مگر پھر بھی آپ نے بڑی صفائی سے لکھ دیا کہ نورالدین کے عقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں اور ان عقائد پر میں بڑا مضبوط ہوں۔میاں ظہیرالدین ایک بات میں نے صاف صاف لکھ دی آپ صبر فرماتے خوش ہوجاتے۔مخالفت کے تذکرہ کی آپ کو کیا ضرورت تھی۔ہمارے عقائد وہی ہیں جو قرآن کریم میں لفظ ایمان اور کفر کے نیچے مندرج ہیں۔ایمان کے ماتحت جو کچھ مذکور ہوا ان پر میرا ایمان ہے والحمدللہ۔اور جو کفر کے لفظ کے نیچے ہیں ان سے مجھے دلی انکار ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔(نورالدین ۱۱ ؍ جولائی ۱۹۱۲ء) (الحکم جلد۱۶ نمبر ۳۱،۳۲ مورخہ ۷،۱۴؍ اکتوبر ۹۱۲ء صفحہ ۷،۸) خیالی تصویر نہ بنائو فرمایا۔  (اٰل عمران:۱۸۴)۔اس کے بارہ میں ایک عجیب نکتہ میں تم کو سناتا ہوں۔تم سب آدمی غور کرو جب تم کسی کا نام سنتے ہو تو تمہارے دل میں ایک