ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 233
آپ کے خط میں اناپ شناپ باتیں بہت بھری ہوئی ہیں اس لیے آپ سے میں آئندہ اب خط و کتابت کرنے کو پسند نہیں کرتا۔آپ کا چونکہ میرے اعتقاد سے بھی اختلاف ہے جیساکہ آپ نے لکھا ہے اس واسطے آپ کو میں احمدی نہیں سمجھتا نہ مریدین میں شمار کرتا ہوں نہ آپ سے تعلق ہے نہ آپ سے مجھے رنج ہے۔آپ کو باتیں بنانی آتی ہیں آپ کی جو خواہش ہے وہ اعلان بدر میں درج کرادوں گا۔مگر آپ کا طرز کلام و مضمون جو آپ نے خط میں اختیار کیا ہے مجھے بہت ہی ناپسند ہے۔خیر ہرکس بخیالی خویش مختار۔جہاں عقائد میں باہم اختلاف ہو تو پیری مریدی کیا بلا ہے۔آپ آزاد ہیں۔والسلام نورالدین ۴؍ جولائی ۱۹۱۲ء دوسرا خط السلام علیکم روحانی تعلق بڑا نازک ہوتا ہے۔آپ نے صاف مجھے لکھا ہے کہ ’’میں عقائد میں آپ کا مخالف ہوں‘‘۔تو پھر میری سمجھ میں بھی نہیں آسکتا کہ میرے عقائد کے تو آپ مخالف کے مخالف ہی رہیں اور مرید بھی اور میں ادھر اپنی زندگی میں منافقانہ طرز کو اختیار کرلوں۔میں پیری و مریدی کا خواہش مند نہیں ہوں نہ ایسی نمبرداری کا مجھے شوق ہے۔ہاں جب کوئی میرے ہاتھ پر توبہ کرتا ہے تو اس وقت میں اس تعلق کے سبب سے جو اس کا میرے ساتھ ہوجاتا ہے گواہ ہوجاتا ہوں اور تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو استقامت عطا فرمادے۔آمین۔کوئی ایسی مصلحت الٰہی ہے جو میں کتابیں لکھا نہیں کرتا۔بفضلہ تعالیٰ میں لکھنا جانتا ہوں۔آپ نے کتاب نورالدین، فصل الخطاب، تصدیق براہین احمدیہ کو ملاحظہ کیا ہوگا اور آپ کو پتہ لگ گیا ہوگا کہ مجھے بھی لکھنے کا ڈھب آتا ہے۔باوجود اس کے میں نے کبھی کوئی رسالہ اپنی جماعت کے لیے نہیں لکھا۔اس کے بہت اسباب ہیں۔منجملہ ان اسباب کے ایک یہ بھی سبب ہے کہ میرے کسی رسالہ میں یا میری