ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 199
یہاں ایک نہایت اعلیٰ قسم کی ایک سانڈنی تھی۔اس نے مجھے کہا کہ اگر آپ کو سانڈنی کی سواری کا شوق ہو تو آپ اس پر چڑھ کر سیر کر آئیں۔میرا نوکر بھی اعلیٰ درجہ کی سانڈنی چلانا جانتا ہے۔اس کی سانڈنی کا چلانے والا بھی مسلمان ہی تھا۔میں اُس پر سوار ہو کر سیر کو گیا۔وہ شخص سانڈنی کو لے کر بہت دور جنگل میں نکل گیا۔اس سے جو اس کے آقا کی بابت کچھ ذکر چلا تو وہ ایک بڑی غلیظ گالی دے کر کہنے لگا کہ ہے ! وہ ہے ہی کیا ! ایک کراڑ ہے کراڑ۔میں نے اُس سے کہا کہ ہیں ! کیا تم اپنے آقا سے ڈرتے نہیں ہو۔کہنے لگا کہ اُس کراڑ سے ہم کیا ڈریں۔بھلا اُس کو یہ تو کہو کہ وہ رات کو گھر سے باہر تو نکلے۔ہم اس کا گلا کاٹ دیں۔میں نے اس سے کہا کہ تمہاری تنخواہ کیا ہے؟ کہنے لگا کہ تین روپیہ۔جب وہاں سے آئے تو اس بنئے سے میں نے پوچھا کہ یہ آپ کی سانڈنی پر جو شخص ملازم ہے۔یہ کیسا شخص ہے ؟کہنے لگا کہ صاحب تین روپیہ کا یہ میرے یہاں ملازم ہے اور کام بھی خوب کرتا ہے مگر دن دن میں اور رات کو نہیں اور میری بالکل عزت نہیں کرتا۔مجھے کراڑ کہتا ہے۔ہم ان سے بہت ڈرتے ہیں۔را ت کو گھر سے کبھی باہر بھی نہیں نکلتے۔اگر رات کو ہم باہر نکلیں اور ان کے ہاتھ آ جائیں تو یہ ہی فوراً ہم کو مار ڈالیں۔سچا علاج ایک شخص نے ذکر کیا کہ حضور میرے بھائی کو کئی سال سے آتشک ہے۔سو روپیہ ماہوار کا جرمانہ مجھ پر بھی ہوتا ہے یعنی اُس کی ادویات وغیرہ میں سو روپیہ ماہوار مجھے بھی خرچ کرنے پڑتے ہیں مگر کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔حضور کوئی نسخہ مرحمت فرماویں۔آپ نے فرمایا کہ اگر وہ سچی توبہ کرے تو سب تکلیف دور ہو جائے۔اس کو کہو کہ وہ سچی توبہ کرے۔حکیم محمد عمر صاحب نے عرض کی کہ حضور اگر سچی توبہ کرنے کے بعد انسان سے بدنظری وغیرہ ہو جائے تو توبہ ٹوٹ تو نہیں جاتی؟ آپ نے فرمایا کہ۔صدبار اگر توبہ شکستی باز آ