ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 198 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 198

فرمایا کہ اگر تم ان کو سلام نہ کرو گے کیا وہ تمہارے جوتیاں نہیں ماریں گے ؟تم لوگ اپنی سلطنت کھو کر اب ہندو حکام کے سلام کرنے نہ کرنے کی بابت دریافت کرتے ہو۔سلام کیا ہے جس طرح وہ ہاتھ اٹھا دیتے ہیں اور منہ سے کچھ بھی نہیں کہتے اسی طرح تم ہاتھ اُٹھا دیا کرو۔منہ سے جواب کچھ کہو یا نہ کہو۔۱۱؎ عربی سے ناواقفی عربی زبان کی نا قدری کے متعلق فرمایا کہ میں ایک شخص سے کتابیں خریدنے کے لئے گیا۔ایک کتاب جو اڑھائی سو روپیہ کی تھی اُس کی میں نے قیمت دریافت کی تو کہنے لگا کہ جو چاہو سو دے دو۔میں نے کہا کہ واہ ! کیا اگر میں تم کو پانچ یا چھ روپیہ دوں تو تم مجھ کو یہ کتاب دے دوگے۔کہنے لگا کہ آپ مجھے اس کتاب کے سات روپے دے دیں۔میں نے اس سے پوچھا کہ اس کتاب پر ڈھائی سو روپیہ قیمت لکھی ہے اور تم مجھ کو سات روپے میں دیتے ہو کہیں تم نے دھوکا تو نہیں کھایا۔اُس نے کہا کہ نہیں صاحب مجھے اس کی قیمت بخوبی معلوم ہے میں نے دھوکا نہیں کھایا۔مجھے خدا سے ڈر معلوم ہوا آخر میں نے اس کتاب کو سات روپے پر خرید کر لیا۔حاوی کبیر اس کا نام تھا۔اور ایک اَور کتاب کی قیمت دریافت کی جو تین روپے قیمت کی تھی۔میں نے خیال کیا کہ جب یہ ڈھائی سو روپیہ قیمت کی کتاب سات روپیہ میں دیتا تھا تو اس کو آٹھ آنہ میں دے دے گا۔اس نے کہا کہ اس کی قیمت پچیس روپے ہے۔میں نے کہا کہ وہ کتاب جو ڈھائی سو کی تھی اُس کی قیمت تم نے سات روپیہ مانگی اور تین روپیہ کی کتاب کی قیمت تم نے پچیس روپے مانگی۔پہلی کتاب کے حساب سے تو اس کی قیمت آٹھ آنہ بھی نہیں ہوتی۔اس نے کہا کہ جناب یہ کتاب طب کی ہے۔میں نے کہا کہ وہ بھی تو طب کی ہی ہے۔اُس نے کہا کہ وہ عربی میں ہے اور میں تو یہ جانتا ہوں کہ آپ بھی سات روپیہ خراب ہی کرنے لگے ہیں۔عربی کتاب کس کام کی ہے۔جاہل اکڑ باز سندھ کے مسلمانوں کی مفلسی جہالت اور اکڑ بازی کے ذکر پر فرمایا کہ ایک بنیا میرادوست تھا۔ایک مرتبہ میں اُس کے ہاں گیا اس کے پانی بھرنے اور روٹی پکانے والے بھی مسلمان ہی خدمتگار تھے اور وہ ایسا امیر تھا کہ پچیس لاکھ روپیہ اُس کے پاس موجود تھا۔اس کے