ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 195

(البقرۃ :۷۳)۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت(المائدۃ :۱۶) اور ہے۔جب انسان گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے عفواور درگزر اس لئے کرتا رہتا ہے کہ اب بھی اصلاح کر لے ابھی اصلاح کر لے مگر جب دیکھتا ہے کہ اب یہ باز ہی نہیں آتا تو پھر سزا کے لئے اس کی پردہ دری کرتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہودیوں … نے مسلمانوں کو مار مار کر تباہ کر دیا تو اللہ تعالیٰ ان کو کہتا ہے کہ بس اب ہم تمہارا پردہ فاش کرتے ہیں۔(البقرۃ :۷۴)۔کہا ہم نے مارو اس شخص کو جس نے قتل کیا۔کیا معنے قاتل کو مارو۔قصاص کے فائدے ایک جگہ خون کا بدلہ لینے کی بابت فرمایا۔  (البقرۃ :۱۸۰)۔مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے تو اُس سے قصاص لو۔اس میں کئی فائدے ہیں۔ایک یہ ہے کہ جب ایک قاتل قتل کیا جائے گا تو جو اور لوگ اُس کے ہاتھ سے مارے جاتے وہ بچ جائیں گے۔دوسرے جو اور ایسے ہی قاتل ہوں گے وہ ڈر جائیں گے۔اب بتلائو کہ جب مرنے مارنے والے بچ گئے تو حیاتی ہوئی کہ نہیں۔ پر بہت غور کرو۔انشاء اللہ کہا کرو حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذکر پر فرمایا کہ حدیث میں لکھا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں اپنی سوعورتوں سے جماع کروں گا تو سو لڑکے پیدا ہو جائیں گے مگر چونکہ انہوں نے انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا اس لئے جو لڑ کا ولی عہد ہو کر ان کے تخت پر بیٹھا وہ صرف جسد ہی جسد تھا اس میں روحانیت نہ تھی۔خضاب ایک شخص کا خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا کہ مجھے خضاب کرنے کا