ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 194
کلام قرآن شریف میں نہیں پڑھی؟ جہاں وہ رسول کریم ﷺ کے بالمقابل خدا سے دعا مانگتے ہیں۔ (الانفال:۳۳)۔اے اللہ اگر یہ دین سچ ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، ہم پر کوئی دردناک عذاب اُتار ( پارہ ۹ رکوع ۱۸)۔خالی فصاحت کچھ شے نہیں علم اور عمل صالح درکار ہے۔۱۰؎ اولاد کے لئے دعا فرمایا۔اولاد کے لئے دعا کی بڑی ضرورت ہے۔بغیر دعا کے کچھ بھی نہیں بنتا۔بیماریاں فرمایا۔بیماریاں اس لئے نہیں آتیں کہ وہ کسی کو سکھ دیں بلکہ بیماریاں یا تو گناہوں کی سزا یا گناہوں کا کفارہ یا کسی شخص کا مرتبہ بڑھانے کے لئے آتی ہیں۔معبر کون ہوسکتا ہے؟ حکیم محمد عمر صاحب نے سوال کیا کہ تعبیر کا بھی کوئی علم ہوتا ہے یا بعض طبیعتیںہی ایسی ہوتی ہیں ؟ فرمایا۔حضرت یوسف علیہ السلام نے قرآن میں کہا ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے خدائے تعالیٰ اس کو علم تعبیر بھی سکھا دیتا ہے۔توکّل علی اللہ چوہدری فتح محمد صاحب ایم۔اے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔فرمایا۔انسان کو چاہیے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے اور دعائیں کرتا رہے۔فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ۔قرآن شریف کو ڈرتے ہوئے دل کے ساتھ پڑھو ایک شخص اپنے لڑکے کو بیعت کرانے اور خود قرآن شریف پڑھنے کی غرض سے حاضر ہوا اور عرض کی کہ پہلے قرآن شریف کے مشکل مقامات مجھے سمجھا دیجئے۔بعد میں پھر شروع سے قرآن شریف پڑھنا شروع کروں گا۔فرمایا کہ قرآن شریف کو خشیۃ اللّٰہ کے لئے پڑھو اور یہ طریقہ خشیۃ اللّٰہ سے پڑھنے کا نہیں ہے۔خیر تم قرآن شریف لائو ہم ابھی پڑھائیں گے۔اس شخص نے سب سے پہلے یہ آیت پڑھی۔