ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 196 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 196

بہت شوق ہے بہت سا روپیہ اس پر خرچ کر چکا ہوں مگر کوئی عمدہ خضاب نہیں ملا۔حضور کوئی عمدہ سا نسخہ مرحمت فرماویں۔آپ نے فرمایا کہ ان کو جواب لکھو کہ میں تو مہندی کیا کرتا ہوں۔حضرت کے ایک بھائی فرمایا۔لیہ میں میرے بھائی محمد بخش صاحب کی قبر ہے۔و ہاں پر وہ کتابیں فروخت کرنے کے لئے گئے۔مرض ( زحیر) ان کو ہوا اور وہیں انتقال کر گئے۔غریب الوطن ہو کر مرنا بھی بخشش کا سامان ہو جاتا ہے۔رسومات کے بندے مولوی غلام احمد صاحب واعظ حضرت کی خدمت میں کہیں وعظ کہنے کے لئے جانے کو طلب اجازت کے لئے حاضر ہوئے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ آپ وہاں کیوں جاتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جس شخص نے مجھے بلایا ہے اس کے ہاں کسی کی شادی ہے وہ چاہتا ہے کہ اس موقع پر کوئی ترک رسوم کے متعلق وعظ ہو جائے۔آپ نے فرمایا کہ تو بہ جی توبہ۔لوگوں نے رسمیں حاکموں کے کہنے سے نہیں چھوڑیں، خدا کے کہنے سے نہ چھوڑیں تو تمہارے کہنے سے بھلا کون مانے لیتا ہے اس لئے اپنے وقت کو اس میں صرف ہی نہ کرو۔لوگوں کو کلمہ خیر سنا کر خدا کی طرف بلائو جب وہ خدا کی طرف آ جائیں گے تو رسمیں خود ہی چھوڑ دیں گے۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک جگہ یہ قانون تھا کہ کوئی شخص شادی کے موقع پر رنڈی یا نقال وغیرہ نہ بلائے اور حکام ضلع اس معاملہ میں لوگوں کی خیر خواہی کرتے تھے اور وہ اس لئے کرتے تھے کہ تا لوگ فضول خرچی کر کے تباہ نہ ہوں۔ایک شخص کے ہاں شادی تھی چونکہ رنڈی یا نقالوں کا بلانا قانوناً جائز نہ تھا۔اس لئے اس نے رسم پوری کرنے کے لئے اور قانون سے بچنے کے لئے اپنے ہاں ناٹ بلائے اور ان ناٹوں کو پندرہ روپے دینے کا وعدہ دیا۔ایک دوسرے نے انہی ناٹوں سے پوچھا کہ تم کو اس نے کیا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پندرہ روپیہ۔تو اس نے کہا کہ اُس نے تو کچھ بھی نہ دیا تم ہمارے یہاں آئو ہم