ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 193 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 193

ان لوگوں سے تعلقات نہیں رکھتے۔بعض جوشیلے مکفرین بہت شورمساجد میں احمدیوں کے خلاف مچاتے ہیں جنگ و فساد ہوتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مسجد میں داخل نہیں ہونا چاہیے مگر ڈرتے ہوئے (۔البقرۃ :۱۱۵) آپ شائد واقف نہیں۔احمدیوں کو مساجد سے نکالا جاتا ہے، بہت دکھ دیا جاتا ہے۔بھیرہ میں احمدیوں کو صرف شر اور فساد سے بچنے کے واسطے محلہ کی پرانی مسجد چھوڑ کر اپنی نئی بنانی پڑی۔کابل میں سنیوں حنفیوں نے بے زبان سیّد احمدیوں کو قتل کر دیا اور سنگسار کیا حالانکہ سنگساری کا تذکرہ ہی قرآن کریم میں نہیں۔بد صحبت کا نتیجہ ایک شخص کا خط پیش ہوا کہ یہاں ایک بدمعاش ہمارے احمدیوں کے ہاں آیا جایا کرتا تھا اُس کے سبب سے ایک لڑائی ہو گئی مقدمہ عدالت تک پہنچ گیا حضور ہماری کچھ سفارش مددکریں۔فرمایا۔یہ بروں کی صحبت کا نتیجہ ہے ہم اس میں کچھ مدد نہیں کرتے۔تم سب استغفار کرو اور خدا سے اپنے گناہ بخشوائو۔روپے دیکھنے کی تعبیر ایک صاحب کا خط پیش ہوا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے پاس ایک بیگ روپوںکا بھرا ہوا ہے۔فرمایا۔خواب میں بہت روپے دیکھنے اچھے نہیں۔بہت روپیہ پریشانی ہے۔ایک دو تین حد چار روپے تک اچھے ہیں۔…………………… زبان کی فصاحت و بلاغت فرمایا۔جن دنوں چراغ الدین جمونی مرتد ہوا۔اس کے اشتہارات نہایت رنگین عبارت میں یہاں آتے تھے اور بڑے پر جوش الفاظ میں وہ دعائیں کرتا تھا اور اپنے درد دل کا اظہار کرتا تھا۔اس وقت میں نے حضرت مرزا صاحب (مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی خدمت میں عرض کیا کہ چراغ الدین ایسی دعا مانگتا ہے جس سے دل ہل جاتا ہے۔حضرت نے فرمایا۔زبان کی فصاحت و بلاغت کفار مکہ میں بھی تھی۔کیا آپ نے ابوجہل اور دیگر عمائد کی فصاحت