ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 191
فرمایا۔شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے بھوک تھی۔میں سو گیا۔خواب میں پلائو اور زردہ کھا لیا۔جب جاگا تو دیکھا کہ پیٹ بھرا ہوا تھا۔جو لوگ ان باتوں کو نہیں مانتے اور کہنے والے کو سودائی وغیرہ خیال کر لیتے ہیں وہ بھی معذور ہیں ان کو ایسا کبھی دکھایا ہی نہیں مگر جن لوگوں سے یہ واقعات گزرتے ہیں اُن کا تو واقعہ ہوتا ہے۔میں نے خود ان باتوں کا بڑا تجربہ کیا ہے۔بشارت ایک دن فرمایا کہ ہم کو بیماری کے ایام میں کبھی کبھی یہ خیال آتا تھا کہ شاید اب مر جاویں مگر پھر ساتھ ہی یہ بھی خیال آتا تھا کہ ابھی نہیں مریں گے کیونکہ مولوی عبدالکریم نے ایک دفعہ ایک خواب دیکھا تھا کہ میرے منہ میں دانت نہیں ہیں۔اس واسطے خیال آتا ہے کہ ابھی تو ہمارے منہ میں دانت ہیں۔قانون قدرت فرمایا۔قدرت کا قانون ٹل نہیں سکتا۔اگر ایک تہجد گزار کو کوئی خطرناک زہر دے دے تو وہ ضرور تکلیف پائے گا۔یہ سزا اس کو قانون قدرت کے رنگ میں ہوگی مگر اس کا قصور نہیں ہے۔اسی طرح اگر کسی زانی کی اولاد کو بھی آتشک ہو جاوے تو اس میں جو سزا اُس کو ملتی ہے یہ بھی اُسی قانون قدرت کے رو سے ہے نہ کہ اُس کے اپنے قصور سے۔اس کے عوض میں روح کو بے شمار انعامات اور ابدی جزا مل سکتی ہے اور اُس تکلیف دہندہ کو سزا ملے گی۔جو لوگ یہ قاعدہ باندھتے ہیں کہ موجود ہ جنم کی تکالیف ضروری ہے کہ کسی بد اعمالی کی سزا ہوں وہ غلطی پر ہیں۔غیر احمدی یا کافر سوال۔سیدنا! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ بدر میں ایک فتویٰ حضور کی طرف سے چھپا ہے کہ جو شخص رشوت ناجائز و سائل سے روپیہ کماتا ہے وہ احمدی نہیں ہے۔چونکہ اہل سنت و جماعت کا مذہب میں نے یہ سنا ہوا ہے کہ ارتکاب معاصی سے انسان کافر نہیں ہوتا اس لئے حضور کے اس فتویٰ کے یہ معنے صحیح ہیں یا نہیں کہ یہ ارشاد اسی قبیل سے ہے جس سے