ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 190
آنحضرت ﷺ کی دعائیں میرے ایک دوست نے بڑی کوشش سے آنحضرت ﷺ کی صبح اور شام کی دعائیں پڑھنے کا وظیفہ شروع کیا ہے۔محمد صدیق اُس کا نام ہے۔کہتا ہے کہ صبح سے پڑھنے لگتا ہوں تو دس بج جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح کی نماز میں غفلت فرمایا۔میرے ایک دوست دولت مند تھے۔بیچارے دنیاد ار تھے وہ صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں رہ ہی جاتے تھے۔ایک نابینا تھے وہ انہیں اس غفلت پر ملامت کیا کرتے۔انہوںنے جھٹ حافظ صاحب کی شادی کرا دی۔پہلے ہی دن جب سورج نکلنے کے قریب ہوا اور ابھی تک حافظ صاحب حمام میں ہی تھے۔اُنہوں نے باہر کھڑے ہو کر جا کھنگورا ا ور کہا کہ حافظ جی ابھی تو پہلا ہی دن ہے۔اُس کے بعد حافظ صاحب نے اعتراض کرنا چھوڑ دیا۔خدا کھلاتا ہے فرمایا۔میں طالب علمی کے وقت میں چھ چھ سات سات وقت کھانا نہیں کھایا کرتا تھا۔فرمایا۔حافظ روشن علی نے میری تقریر ہوتے ہوئے آسمانی کھانا کھا لیا تھا۔بیداری میں کباب اور پراٹھے کھاتا رہا۔( خاکسار راقم الحروف نے حضرت اقدس سے حافظ صاحب کے متعلق یہ تقریر سن کر بعد میں حافظ صاحب سے مفصل حال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک دن میں نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا۔سبق کی انتظار میں بیٹھے بیٹھے کھانے کا وقت گزر گیا حتیٰ کہ ہمارا حدیث کا سبق شروع ہو گیا۔میں اپنی بھوک کی پروانہ کرکے سبق میں مصروف ہو گیا۔درا نحالیکہ میں بخوبی سبق پڑھنے والے طالب علم کا آواز سن رہا تھا اور سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ یکایک سبق کا آواز مدھم ہوتا گیا اور میرے کان اور آنکھیں باوجود بیداری کے سننے اور دیکھنے سے رہ گئے۔اس حالت میں میرے سامنے کسی نے تازہ بتازہ تیار ہوا ہوا کھانا لا رکھا۔گھی میں تلے ہوئے پراٹھے اور بھنا ہوا گوشت تھا۔میں خوب مزے لے لے کر کھانے لگ گیا۔جب میں سیر ہو گیا تو میری یہ حالت منتقل ہو گئی اور پھر مجھے سبق کا آواز سنائی دینے لگ گیا مگر اس وقت تک بھی میرے منہ میں کھانے کی لذت موجود تھی اور میرے پیٹ میں سیری کی طرح ثقل محسوس ہوتا تھا اور سچ مچ جس طرح کھانا کھانے سے تازگی ہو جاتی ہے وہی تازگی اور سیری مجھے میسر تھی حالانکہ نہ میں کہیں گیا اور نہ کسی اور نے مجھے کھانا کھاتے دیکھا )