ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 187 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 187

ہوتا ہے مگر جب دوسرے مل جاتے ہیں تو پھر رحم نہیں آیا۔بُری صحبت کے بہت بُرے نتائج ہوتے ہیں۔قواعد کی پابندی بوقت درس بخاری فرمایا۔ہر کام کے ابتداء میں کچھ سنتیں ہوتی ہیں۔ماہ رمضان سے پہلے شعبان میں نصف سے پہلے کچھ مسنون روزے رکھے گئے ہیں تاکہ فرض اور غیر فرض اور اصل اور غیر اصل میں فرق کیا جاوے کیونکہ اس طرح قانون مٹ جاتا ہے۔جنہوں نے قانون بنائے ہیں کبھی اُن کی کتابیں پڑھو تو معلوم ہو کہ اُن کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور کچھ فروع۔مقنون کو بہت بہت غور کرنے پڑتے ہیں۔یہاں ایک فلاسفر ہے ( الہ دین سابق بافندہ المعروف فلا سفر ) اس کو ایک رؤیا ہوا۔یہ آزاد آدمی ہے۔رمضان کے مہینہ میں صبح صادق سے چند منٹ اوپر گزر چکے تھے اور اذان ہو چکی تھی۔اُس نے بیان کیا کہ مجھے خیال آیا کہ پانی پی لینے سے کیا حرج ہے۔چنانچہ پی لیا اور پھر نماز پڑھ کر سو گیا۔خواب میں دیکھا کہ میں نے تانی لگائی ہے اور ایک سرے کا رسہ کیلے سے باندھ کر جب دوسری طرف کا رسہ کیلے سے باندھنے لگا ہوں تو رسہ چھوٹا ہے۔کیلے اور رسے میں چار اُنگل کا فرق رہ گیا۔زور لگا کر اُس کو کھینچتا ہوں اور دہائی دہائی کرتا ہوں کہ تانی بگڑ گئی۔کام خراب ہو گیا کیونکہ اگر تانی سُو کھ جاوے تو اُس کی تاریں نہیں بکھر سکتیں اور اُسی وقت آنکھ کھل گئی اور اللہ کی طرف سے تفہیم ہوئی کہ قواعد اور ضوابط کی پابندی ضروری ہے جس طرح چند انگشت رسی کم ہونے سے تانی کا کام بگڑتا تھا اسی طرح خدائی قانون اور شریعت کے کام میں بھی چند منٹ کم و بیش ہو جانے سے نقصان ہے۔اسی طرح کی ایک رئویا اَور اسی فلاسفر کو ہوئی تھی۔ایک دفعہ اُس نے فرض نماز بیٹھ کر پڑھ لی۔لوگوں نے ملامت کی کہ اس میں کیا حرج ہے عبادت ہی ہے۔عشاء کی نماز کے بعد سو گیا۔دیکھا کہ ایک خطرناک دریاکے کنارے بیٹھا ہوں کہ ایک طرف دریا میں ڈھالگ گئی ہے۔جوں جوں وہ پشتہ گرتا جاتا ہے ذرا ذرا پیچھے ہٹتا جاتا ہوں۔آگے ایک دیوار آ گئی ہے۔ڈھااس کے قریب آ گئی میں نے دہائی دی تو ایک آدمی جو اُس دیوار پر ٹہل رہا تھا۔اُس نے آواز دی کہ اگر تم کھڑے ہوئے ہوتے تو میں تمہیں پکڑ کر نکال لیتا۔میں بیدار ہو گیا اور مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا