ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 186
خاطر لایا ہوں۔میں نے کہا مول کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ مول یہی ہے کہ ان کو پڑھ جائو۔میں ۷۵صفحے وہیں بیٹھے بیٹھے پڑھ گیا۔اس میں یہ تھا۔ابوبکر میں یہ برائیاں تھیں، عمر میں یہ، عائشہ میں یہ برائیاں تھیں۔اس کا نام تَشْئِیْدُالْمَطَاعِنْ تھا۔میں نے کہا کہ انشاء اللہ میںاس کو ختم کر لوں گا مگر میں اس پر ایک سطر تمہارے سامنے لکھنی چاہتا ہوں۔انہوں نے اجازت دے دی۔میں نے یہ آیت لکھ دی۔(اٰل عمران: ۱۹۶)۔اس نے کہا کہ اس کا ترجمہ کرو۔میں نے خوب مزیدار ترجمہ کیا کہ’’ جولوگ اپنے گھر سے نکالے گئے اور انہوں نے ہجرت کی اس واسطے وہ مہاجر بنے اور ان سے لوگوں نے لڑائیاں کیں جیسے بدر میں اور اُحد میں۔اُن کے سب گنا ہ ہم معاف کرتے ہیں اور ہم ان کو بہشت میں پہنچاویں گے۔‘‘ یہ سن کر انہوں نے کہا کہ ہماری کتاب کی تو جڑ ہی آپ نے اُکھاڑ دی۔ہم نے کہا کہ خدا نے ہی اُکھاڑ دی ہے۔اُس نے کہا کہ مجھے تو یہ کتاب ایک شخص نے اس خیال سے دی تھی کہ اس کتاب سے نور الدین ضرور شیعہ ہو جائے گا۔غرض کہ پھر اُنہوں نے کتاب کی قیمت بھی نہ لی۔اس آیت کو خوب یاد رکھو میری سمجھ میں یہ آیت صحابہ کے دشمنوں کا خوب مقابلہ کرتی ہے۔قَاتَلُوْا کے معنے لڑائی ہی درست ہیں۔مرنے مارنے کا ذکر نہیں ہے آگے آتا ہے۔ (اٰل عمران: ۱۹۶) یعنی ابوبکر ، عمر ، عثمان وغیرہ کو اور بھی بہت کچھ دیں گے۔خلافت دیں گے حکومت اور بادشاہی دیں گے۔گناہ کے اسباب فرمایا۔جو گناہ کرتا ہے وہ جاہل ہوتا ہے وہ بدی کے انجام کو نہیں جانتا۔میں نے بچھو، سانپ، شیر، گھوڑے، ا ونٹ کو دیکھا ہے کہ جو چیز اُن کے واسطے مضر ہوتی ہے اُس کے وہ نزدیک نہیں جاتے۔گھوڑا خطرے کے مقام سے اپنا آپ بچاتا ہے ا ور سانپ بھی۔اگر انسان پکی طرح یہ سمجھ لے کہ میری اس بدی کا انجام کیا ہو گا؟ بدیاں شہوت کے غلبہ سے، صحبت بد سے اور کوتاہ اندیشی سے ہوتی ہیں۔میں نے ایک ڈاکو سے پوچھا کہ کیا تم کو رحم نہیں آتا۔اُس نے کہا کہ اکیلے تو