ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 188
تو میں پور افائدہ اٹھاتا اور مجھے اپنی حرکت پر بہت شرم آئی۔پھر فرمایا کہ واقعہ ہے اور میں اس کو صحیح سمجھتا ہوں اور میں اس کو بڑی قدر سے دیکھتا ہوں۔( حضرت خلیفۃ المسیح کی زبان فیض ترجمان سے فلاسفر صاحب کے یہ ہر دو رؤ یا سن کر خاکسار(مفتی محمد صادق صاحبؓ) زیادہ مفصل سننے کے واسطے فلاسفر صاحب کے پاس گیا اور ان کی زبانی پوری کیفیت سننے کی خواہش ظاہر کی۔چنانچہ انہوں نے تمام ماجرا کھول کر سنایا جس کو میں تحریر کر چکا ہوں )۔فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے روٹی کھائی اور سست ہو گیا اور ہاتھ دھوئے کے بغیر سو گیا۔خواب میں دیکھتا ہوں کہ میرا ایک بھائی ہے اُس کے ہاتھ میں خوبصورت قرآن ہے دور سے مجھے دکھاتے ہیں مگر دیتے نہیں۔میں نے آگے ہو کر ہاتھ بڑھایا مگر انہوں نے قرآن شریف کو ہٹا لیا۔جاگا اور ساتھ ہی تفہیم ہو گئی اور اس حدیث کی تصدیق ہو گئی جس میں ہے کہ ہاتھ پر غمر ہو تو نہ سوئے یعنی ان دھوئے ہاتھوں سے نہ سوئے۔آنحضرت ﷺ نے اصلاح کی فرمایا۔میں حضرت نبی کریم ﷺکے معاملات پر بہت بہت غور کیا کرتا ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کیسا کیسا فہم دیا ہے۔کبھی کبھی جو میں قرآن پڑھنے لگتا ہوں تو میری طبیعت حیران ہو جاتی ہے کہ کسی قسم کی بھلائی کا کوئی پہلو چھوڑا نہیں گیا۔نبی کریم ﷺ نے سمجھا کہ جھوٹ اور جھوٹے قصے بنانے اور نفاق شرک کی جڑ ہے۔دیکھو بتوں کے واسطے کس قدر جھوٹے قصے بنانے پڑتے ہیں۔پھر ایک دوسرے بت کی وجہ سے نفاق بھی ہو جاتا ہے۔پھر جب ان پر بھروسہ ہو گیا تو شرک پیدا ہو گیا۔پہلا وعظ آپ نے شرک کا فرمایا۔جب اس کے ضمن میں دیکھا کہ خانہ جنگیاں بہت ہوتی ہیں۔پھر اس کا انسداد کیا۔(اٰل عمران : ۱۰۴)۔پھر ان کے رسوم و عادات پر غور کیا تو دیکھا کہ زنا اور شراب نے بہت نقصان پہنچایا۔یہودی مذہب میں شراب منع نہ عیسائی مذہب میں۔شراب نے یہ غضب ڈھایا ہے کہ لندن میں اتوار کو ماسوائے شراب