ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 185
ایک معمولی لاٹھی سے یہ کام نہیں چل سکتا بلکہ زبردست ہتھیار رکھنا پڑتا ہے اور پھر وہی ہتھیار بکریوں پر چلانا پڑتا ہے۔گویا درشتی اور نرمی دونوں کو سیکھ جاتا ہے۔یہ مثال مجھے اس وقت سے بہت پیاری ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بکریاں چرانے میں بھی یہی حکمت تھی۔مہدی کا مال لٹانا فرمایا۔حدیث میں آتا ہے کہ مہدی آئے گا اور مال لُٹائے گا مگر لوگ قبول نہ کریں گے۔حضرت صاحب نے پانچ ہزار تک کا اشتہار تو آتھم کے بارہ میں ہی دیا اور براہین پر دس ہزار کا دیا مگر اب تک کسی نے وصول نہ کیا۔کسی نے کہا کہ لوگ ایسے اشتہاروں پر ہنسی اُڑاتے ہیں۔میں نے کہا کہ وہ ہنسی نہیں بلکہ اس حدیث کی تصدیق کررہے ہیں۔ایک پٹھان کے سؤر چرانے کا واقعہ فرمایا۔ایک سفر میں تھے۔میرا ایک دوست کہنے لگا کہ مجھے پیاس لگی ہے۔میں ایک گائوں میں گیا۔دیکھا کہ تمام لوگوں نے گھروں میں سؤر رکھے ہوئے تھے۔میں نے پوچھا کہ کوئی تمہارے گائوں میں مسلمان بھی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ہاں دوسرے گائوں میں ایک مسلمان ہے۔وہاں گیا اور دیکھا کہ ایک شخص سؤر چرارہا تھا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اُس نے کہا کہ ہم پٹھان مسلمان ہے۔میں نے کہا کہ تم سؤر چرا رہے ہو؟ اُس نے کہا کہ ہم دارالحرب میں آیا ہوا ہے۔یہاں ہم نے بیاہ کیا ہے۔ہماری بی بی کے جہیز میں سؤر ملے ہیں اس واسطے ہم چرا رہا ہے۔جب وطن میں جائے گا وہاں پکا مسلمان ہو جائے گا۔اب یہاں دارالحرب میں ہے۔ہمارے مولوی لوگ کہتے ہیں کہ دارالحرب میں سب کچھ جائز ہے۔شیعہ کے مطاعن کا ردّ بوقت درس قرآن شریف فرمایا۔دیکھو میں ایک کہانی سناتا ہوں۔میرے ایک دوست شیعہ ہیں وہ میرے پیچھے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں۔مجھ سے سخت محبت بھی ہے۔ایک دفعہ میرے پاس جموں میں آئے اب بھی کبھی آ جاتے ہیں۔وہ میرے پاس ایک آٹھ جلد کی کتاب لائے ایک پانچ جلد کی ایک تین جلد کی، اور کہا آپ کو کتابوں کا شوق ہے میں آپ کی