ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 15
حیدر آباد اور مرحوم نظام کی فیاضی کا ذکر خادم سے حیدر آباد کی نسبت گفتگو فرما رہے تھے کہ فرمایا۔ہمیں حیدر آباد کی چھپی ہوئی کتابیں بہت پسند آئیں۔پھر فرمایا کہ بالخصوص مطبع دائرۃ المعارف میں کنز العمال کی کل جلدیں نہایت عمدگی سے چھپی ہیں۔مرحوم نظام کی بخشائش کے لئے یہ بھی ایک بڑا ذریعہ ہیں کہ ان کے عہد میں حدیث کی خدمت ہوئی ہے۔حیدر آباد کے تکلفات و مراسم آداب و سلام کا تذکرہ تھا۔فرمایا۔میں تمام ہندوستان طلب علمی وغیرہ کے لئے پھرا لیکن حیدر آباد جانا نہ ہوا اور نہ کبھی طبیعت چاہی۔جہاں اس مولا کریم کا مجھ پر بے حد احسان ہے یہ بھی احسان ہے کہ جو مجھ جیسے بے تکلف کو وہاں نہ لے گیا ورنہ وہاں کے امراء وعلماء کو میری سادگی اور بے تکلفی سے رنج پہنچتا اور مجھے تکلیف رہتی۔مرحوم نظام کی فیاضی و ہمددری ہر قوم و ملت کے ساتھ فیاضی و خیرات کا ذکر تھا۔فرمایا۔معلوم ہوتا ہے کہ نہایت مخیر تھے۔مکہ کے ایک ہم مکتب کے روپیہ ہتھیانے کا واقعہ فرمایا۔مکہ مدینہ کے لوگوں پر پورا پورا اعتماد نہ کیا جاوے۔چنانچہ اپنا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ مکہ میں جب میں گیا تو ایک ہم مکتب وہیں کا رہنے والا ہمیں اتفاقًا مل گیا۔پس اس نے ایسے ایسے آرام دیئے اور ایسا ساتھ دیا کہ جو میں سفر میں اس کے بغیر کبھی نہیں حاصل کر سکتا تھا۔لہٰذا میں جب مدینہ طیبہ جانے لگا تو اس کو کہا کہ میرا یہ سامان اور یہ روپیہ ہے سامان تو امانتًا رکھنا اور البتہ روپیہ ہے اس کو تم تجارت میں لگا کر نفع کمانا۔میں بہت دنوں میں آؤں گا اگر زندہ رہا اور واپس آیا تو پھر تم میرے آئے بعد اس روپیہ کو اکٹھا کر دینا میں لے لوں گا۔چنانچہ میں روپیہ اور سامان دے کر چلا