ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 14
چوبیس پچیس سال کا سن تھا اور قویٰ مضبوط تھے میں بھی صرف کھجور رکھ لیا کرتا تھا اور پھر وہی کھا کر پانی یا دودھ پی لیا کرتا۔لہٰذا میں اپنے اونٹ والے کو رات کے وقت پیٹ بھر کر کھجور دے دیتا۔چونکہ رات کو ایک دوسرے سے تو مل نہیں سکتے۔پس وہ تنہا بخوشی کھا کر شکم سیر ہو جاتا اور پھر میرا از حد شکر گزار رہ کر بہت فرمانبرداری کرتا اور دوسرے یہ کہ میں عربی بھی خوب بات کرتا تھا اس سے بھی آسانی تھی۔مجھے جوانی میں بہت پیاس ہوا کرتی تھی بالخصوص علی الصباح پیاس سے بے تاب ہو جاتا تھا چنانچہ حسب عادت ایک وقت مجھے آخر شب میں پیاس ہوئی۔دیکھا تو پانی نہیں بالآخر بدوی سے کہا کہ مجھے پیاس ہو رہی ہے کہیں سے ایک گلاس پانی لا۔وہ فورًا چلا گیا اور خلاف قاعدہ میری مروت سے وہ ایک دوسرے کے اونٹ کے قریب چلا گیا کہ جس پر ایک ہندوستانی معزز بہت سا پانی مشکیزہ میں رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ باادب کہا کہ ایک مولوی صاحب جو آپ کے ہی وطن کے ہیں ان کو ایک گلاس پانی چاہئے۔وہ زبان نہیں جانتے تھے پکارنے لگے حرامی حرامی یعنی چور چور۔پس لفظ حرامی منہ سے نکلنا تھا کہ اس تیزی سے وہ میرے اونٹ کے پاس آ گیا کہ گویا وہ یہیں تھا لیکن بہت غصہ میں بھرا ہوا اور کچھ بڑبڑاتا تھا۔میں نے پوچھا۔اَیْنَ الْمَائُ کہا بَخَلُوْہُ۔اور طیش سے کہنے لگا سَیَذْکُرُوْنَ اِنْشَائَ اللّٰہُ۔پھر مجھ سے کہا کہ دو میل پر ایک میٹھا چشمہ آتا ہے وہاں پانی پی لینا۔جب صبح ہوئی تو قافلہ میں ایک شور ہوا اور ایک صاحب بہت کچھ چیخنے لگے۔دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ ایک چور نے رات کو ان کے مشکیزہ میں ایک بڑا سؤا گھسیڑ دیا جس سے ہولے ہولے پانی سب نکل گیا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کو چاہئے تھا کہ ایک گلاس پانی اس غریب کو دے دیتے۔انہوں نے کہا حضرت میں تو زبان ہی نہیں جانتا ہوں میں اسے چور ہی سمجھا۔خیر میں بعد اس کو نرمی سے جب نصیحت کی تو کہنے لگا یاشیخ ایک گلاس پانی کے لئے اس نے بخیلی کی اب معلوم ہو جائے گا کہ مکہ تک اس کو کیسے پانی ملے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ کسی کی تکلیف یا مصیبت کا ذرا بھی انہیں احساس نہیں ہوتا۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس کو وہ صاحب کی تکلیف پر ذرا بھی رنج نہ ہوا۔فرمایا۔بدوی اسلام مطلق نہیں جانتے بالکل جاہل ہیں۔