ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 16
گیا۔جب بہت دنوں کے بعد واپس آیا تو جب بھی اس نے مجھے بہت آرام و آسائش سے رکھا۔پھر چند دنوں کے بعد میں نے کہا کہ اب میں وطن روانہ ہو جاؤں گا میرا روپیہ اور سامان اکٹھا کر دو۔کہا بہتر۔آپ مطمئن رہیں چار روز انتظار کیا لیکن کچھ بھی انتظام نہ کیا۔تو پھر اور ایک دفعہ کہا مگر تب بھی کوئی اثر نہ ہوا۔بالآخر تیسری دفعہ جب میں نے تشدد کیا تو کہا کہ آپ مطمئن رہیں وہ آپ کا سامان و روپیہ ایک بہت بڑے امیر کے ہاں رکھوایا ہوا ہے اب میں جا کر لاتا ہوں۔میں نے کہا کہ اچھا چلو میں بھی چلتا ہوں۔لہٰذا میں ساتھ ہو گیا وہ مجھے لئے ہوئے ایک مکان پر گیا جو کہ بہت بڑا عالی شان محل تھا لیکن اس کا دروازہ بند تھا۔کہا کہ دیکھئے گھر کا دروازہ بند ہے۔اتنے میں ایک عرب اتفاقًا ادھر سے نکل آیا اور کہا کہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ اتنا بڑا مکان اور دروازہ بند؟ اس نے کہا کہ مطلب کیا ہے کہو؟ میں نے کہا کہ اس مکان میں ہمارا سامان ہے۔معًا وہ سمجھ گیا اور کہا کہ مولوی صاحب یہ بہت بڑے امیر کا مکان ہے وہ اپنے مہمانوں کو جدہ تک پہنچانے معہ زنانہ کے گئے ہوئے ہیں اس لئے بند ہے۔وہ کسی کا سامان امانت نہیں رکھا کرتے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ بدمعاش جن کو میں خوب پہچانتا ہوں آپ کو دھوکہ دیا اور سب مال کھا گیا ہے۔پھر اس کے بعد اس کو بہت گالی گلوچ دیا اور مجھ سے کہا کہ مولوی صاحب بہتر یہ ہے کہ آپ صبر کر کے چپ چاپ چلے جاویں یہ نہ دے گا بلکہ دھوکہ میں رکھے گا۔خیر میں چلا آیا۔کئی سال کے بعد پھر اتفاقًا ایک وقت ہندوستان میں اسی شخص سے ملاقات ہوئی۔دیکھا کہ نہایت افلاس میں ہے اور میں اس زمانہ میں نہایت متمول تھا۔مجھ سے کہا اب آپ بہت جلیل القدر ہو گئے ہیں اور میں اپنے شامتِ اعمال سے ان حالوں پہنچا ہوں لہٰذا میرے ساتھ کچھ سلوک کیجئے۔(ماخوذ از کلام امیر البدر جلد۱۱نمبر۲۰و۲۱ مؤرخہ ۱۵؍ فروری ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۴، ۱۵) معارف قرآن مجید مذاہب عالم پر سرسری نظر سناتن دھرم تو کوئی مذہب نہیں۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہندوؤںکے تمام لیڈر جمع ہوکر ہندو کی کوئی جامع مانع تعریف نہیں کرسکے۔نہ کھان پان کا امتیاز رکھنے