ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 146

اَیْنَ۔ظرف مکان بھی ہے اور ظرف زمان بھی ہے۔اس میں سارا جہان مخاطب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور جس وقت توجہ کرو پس اسی طرف توجہ ہے اللہ کی۔فی الواقع جدھر صحابہ متوجہ ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی توجہ کو مثمر ثمرات بنا یا۔۔بیٹا ہونا سبحان کے بالکل خلاف ہے۔عیسائیوں نے ایک مجلس کا نام تقدیس رکھا ہے اور اُس میں بیٹا ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔اس لئے فرمایا کہ یہ تقدیس نہیں۔قنوت۔نماز میں کھڑا ہونا، فرمانبرداری، دعا مانگنا، عام عبادت سب کو قنوت کہتے ہیں۔۔قَدَّرَ، اندازہ کیا، حکم جاری کیا، کام کو پورا کیا، پیدا کیا، خبر دی۔رکوع ۱۵ اللہ جلّشانہ نے اَلْحَمْد میں اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ۔مَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ اور ضَآلِّیْن کا ذکر فرمایا ہے۔علمی طور پر فرمایا کہ جو لوگ نمازوں کے پابند ہیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، کتاب اللہ اور آخرت یا جزا سزا پر ایمان رکھتے ہیں وہ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْمیں ہیں مگر دوسرے لوگ جو انکار کرتے ہیں مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ ہیں۔تیسرے وہ جو ضَآلِّیْن ہیں جو تجارت کے ذریعہ سے تمام مذہبوں سے واقف ہو سکتے تھے اور وہ نصاریٰ ہیں۔پھر فرمایا کہ بد عہد لوگ ضَآلّہوتے ہیں۔ان کا ذکر لمبا کیاپھر مَغْضُوْب اور مُنْعَمْ عَلَیْہِمْ کا نام لے کر بتایا۔پھر بنی اسرائیل کا بار بار ذکر کیا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ کی اُن نعمتوں کو یاد کرو جو اُس نے تم پر کیں۔پہلوں میں اور ان میں یہ فرق دکھلایا کہ یہاں عدل کو مقدم کر دیا اور ان میں شفاعت مقدم تھی اس لئے کہ بعض دنیا کو چھوڑ نہ سکے پہلے سپارش سے کام لیا جب اس سے کام نہ چلا تو بدلہ دینے کو ہوئے۔دوسروںنے مال کا دینا مقدم کیا جب کام نہ چلا تو لگے سپارش کرانے۔۔امتحان، آزمائش۔اور امتحان کے معنے ہیں کسی کی محنت لینا اور محنت کے بدلہ میں کچھ دینا۔ایک جگہ اظہار کے معنے بھی آتے ہیں۔ (الطارق :۱۰)۔یہاں بھی محنت لینے کے معنے ہو سکتے ہیں۔