ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 145
انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ تم خدا کس کو کہتے ہو؟ میں نے کہا۔(ھود:۱۰۸) یعنی خدا وہ ہے کہ جو چاہے سو کر گزرے۔انہوں نے فرمایا کہ بس اگر تمہاری خواہش پوری نہ ہو تو اپنے نفس کو کہنا کہ میاں تم کوئی خدا ہو؟ اس نکتہ سے مجھے اب تک فائدہ پہنچا ہے اور میں بہت راحت وآرام میں رہتا ہوں۔دوسری بات یہ کہ رسول نہ بننا۔میں نے کہا وہ کیسے ؟ فرمایا کہ رسول کے پاس خدا سے حکم آتا ہے۔اس کو خوف ہوتا ہے کہ اگر لوگ میری باتوں کو نہ مانیں گے تو دوزخ میں جائیں گے اس لئے وہ کڑھتا ہے مگر جو تمہارا فتویٰ نہ مانے تو وہ تو دوزخ میں نہیں جا سکتا۔اس لئے تم اس کا بھی کبھی رنج نہ کرنا کہ فلاں شخص نے ہمارا کہنا کیوں نہ مانا۔ہمارے شیخ المشائخ شاہ ولی اللہ صاحب کے والد ماجد کو ایک مرتبہ الہام ہوا کہ اس وقت جو لوگ تمہارے پیچھے نماز پڑھیں گے سب جنتی ہیں۔ایک شخص پر ان کو شبہ پڑ گیاکہ یہ نیک نہیں معلوم ہوتا۔جب انہوں نے نماز پڑھ کر سلام پھیرا تو دیکھا کہ وہی شخص اُن میں نہ تھا۔دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ وضو کرنے کے لئے چلا گیا تھا اور بعد میں نماز ہو چکی۔مگر مقتدیوں کو شمار کرنے سے معلوم ہوا کہ اتنے ہی ہیں جس قدر پہلے تھے۔ایک شخص نے اُٹھ کر بیان کیا کہ میں وضو سے تھا جب میں نے دیکھا کہ یہاں جماعت طیار ہے تو میں فوراً ہی شامل ہو گیا۔۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی شخص ظالم ہے جو لوگوں کو مسجدوں میں ذکر الٰہی کرنے سے روکے مگر افسوس کہ شیعوں کی مسجدوں میں سنی نہیں جا سکتے اور سنیوں کی مسجدوں میں شیعہ نہیں گھس سکتے۔بعض بعض مسجدوں کے دروازوں پر لکھ کر لگا دیتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص نہ آئیں۔ایسے لوگ دنیا میں ذلیل ہوں گے اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب دیا جائے گا۔۔سار اجہان خدا کا ہی ہے جس طرف تم توجہ کرو خدا کی فتح ونصرت تمہارے ساتھ ہو گی۔