ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 140
ساحروں نے کیا۔کچھ ستاروں کی تاثیریں ہوتی ہیں۔ان میں بھی عجیب در عجیب باتیں ہوتی ہیں۔سورج کے پوجاری میں نے دیکھے ہیں کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک تمام دن ٹکٹکی باندھ کر سورج کو دیکھتے ہی رہتے ہیں اور ایسے لوگوں میں ہندوئوں کو بھی دیکھا اور مسلمانوں کو بھی۔بعض شریف بھی ہیں۔ہمارے زمانہ میں بعض لوگ بڑے بزر گ کہلاتے ہیں اور وہ ان سب باتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔۔وہ لوگ جو ہم پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کو کیا خصوصیت ہے … وہ غور کریں کہ کیا نبی کافر ہوا کرتے ہیں۔حضرت سلیمان کی نسبت یہودیوں میں ساڑھے نو قومیں یہ اعتقاد رکھتی ہیں کہ وہ کافر تھے۔اسی طرح عیسائی بھی کہتے ہیں کہ وہ ایک عورت کی محبت میں مشرک ہو گئے تھے۔خدائے تعالیٰ نے ان دونوں کی یہاں پر نفی فرمائی ہے۔یاد رکھو کہ جس قدر کتابیں نقش سلیمانی اور طلسم سلیمانی وغیرہ سلیمان کی طرف منسوب ہیں وہ سب افتر ا پردازیاں ہیں۔میں نے بابل کی کہانیاں بھی بہت پڑھی اور سنی ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ دو فرشتوں نے آدمیوں کی سیہ کاریوں پر اعتراض کیا چنانچہ وہ آدمی بنا کر بھیجے گئے۔قوت شہوت نے غلبہ کیا …… یہ تمام جھوٹی کہانیاں ہیں۔ملائکۃ اللہ ایسی باتوں سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔حضرات انبیاء مثلاً حزقیل وغیرہ کو خدائے تعالیٰ نے بتایا کہ تم فارس اور مید کے بادشاہوں سے تعلق پیدا کر لو تو آزاد ہو جائو گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔اسی واسطے انہوں نے تعلق پیدا کیا۔چونکہ یہ موقع خطرناک تھا۔ا س لئے بتایا کہ اپنی عورتوں کو بالکل آگاہ نہ کرو صرف جری مرد واقف ہوں۔جن مَلک نے یہ تعلیم دی ان میں سے ایک کا نام ہارو ت اور دوسرے کا نام ماروت تھا۔ان کے ذریعہ سے سمجھایا گیا کہ ایسا نہ ہو کہ تم اس راز کو ظاہر کر کے انبیاء کے قتل کا موجب ہو اور وہ وہ علم تھا جو شوہر و بیوی کے درمیان تفرقہ تھا یعنی بی بی کو نہیں بتایا گیا تھا۔اس کے سبب سے بابلیوں کو نقصان پہنچا۔