ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 141
ہَرْتٌ۔تہ و بالا کر کے۔میدان کو صاف کر دینا۔مَرْتٌ۔کہتے ہیں زمین کو اس طرح صاف کر نا کہ درخت تک بھی باقی نہ رہے۔اس لئے جن دو فرشتوں کے ذریعہ سے حزقیل اور دانیال نبی کو یہ تعلیم دی گئی کہ تم ایران اور مید کے بادشاہوں سے مل کر بابل کو اڑا دو اور یہود کو آزا د کرنے کے لئے بابل کے بادشاہوں کو اُڑا بھی دیا گیا تو ان کو ہاروت و ماروت کہا گیا۔ا س خفیہ کارروائی کے لئے اُن کو خاص اشارات اور زبانیں سمجھائی گئیں۔ہمارے ایک بہت پیارے کے والد فریمسن تھے۔میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی کمیٹی کب سے ہے۔کہا حضرت سلیمان کے وقت سے۔میں نے کہا پھر کب سے۔کہا بابل کے وقت سے۔پھر میں نے پوچھا کہ قانون کے ذریعہ سے جس شخص کو نہ ما رسکو کیا اس کے ذریعہ سے قتل کر سکتے ہو۔کہا کہ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔پھر میں نے چند اورسوالات کئے جن کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ مار ڈالتے ہیں۔عورت فریمسن نہیں بن سکتی۔ان کے چند اشارات ہوتے ہیں اشاروں سے باتیں کرتے ہیں۔ایک اور فریمسن سے بھی باتیں ہوئیں۔پھر مجھ کو خدا تعالیٰ نے عالم رؤیا میں …… یہاں ایک شخص دکھایا کہ یہ فریمیسنوں کی طرف سے خاص طور پر یہاں رہتا ہے۔یہ لوگ رات دن دشمنوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔مذہب سے ان کو کوئی تعلق نہیں۔ان کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت محمد صلعم اور حضرت ابوبکر ؓ و عمرؓ نے ملک عرب میں سے اس کمیٹی کا نام و نشان تک اُڑا دیا اور پینتیس سال تک اس کا کوئی پتہ و نشان باقی نہ رہا اور آپ کے اصحاب میں سے کوئی اس کمیٹی میں قطعاً شریک نہ ہوا۔پھر جناب علی مرتضیٰ کے عہد میں انہوں نے سرنکالا۔۔سونے کو کٹھالی میں رکھنا تاکہ اس کا کھرا اور کھوٹا پن معلوم ہو جاوے۔آزمائش، امتحان۔دیکھو (الذّٰریٰت :۱۴) … (العنکبوت :۳) … (الانفال :۲۹) … (البقرۃ :۱۵۶) …(الانبیاء :۳۶)۔