ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 139

پھر سوچ کر کہنے لگا کہ آپ کے پاس کونسا فرشتہ وحی لاتا ہے۔آپ نے کہا جبرئیل۔اس نے کہا کہ جبرئیل تو ہمیشہ سے یہود کا دشمن ہے۔یہ صرف مباحثات کا نتیجہ ہے کہ انسان اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اپنا مذہب بھی چھوڑ بیٹھتا ہے اسی واسطے۔احادیث میں مذکور ہے کہ زمانہ وغیرہ کو بھی گالی نہ دو۔۔عہد کرتے ہیں اور پھر توڑ دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی کتاب کو اس طرح سے پس پشت ڈال دیتے گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں۔انسان کے قویٰ محدود ہیں ایک حد تک کام کر کے تھک جاتے ہیں۔اسی واسطے انسان بعض اوقات لعب کی کتابوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔حضرت سلیمان کے زمانہ میں بڑا امن ہو گیا تھا۔ایسی ہی حالت میں بیرونی آدمی آتے تھے ا ور اپنے ہمراہ عجیب عجیب دلربا اشیاء لاتے تھے تاکہ مقبول ہوں مگر جب مقبول نہیں ہوتے تو بر ا بھلا کہتے ہیں۔اس لئے بہت سے لوگوں نے اپنی عجیب عجیب بد ذاتیوں کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے۔۔سلیمان علیہ السلام کافر نہ تھے بلکہ کافر شیطان تھے جو سحر کی باتیں کرتے تھے۔سِحْر۔کُلُّ مَا دَ َّق وَ لَطُفَ مَأْخَذُہٗ۔ناول، دلربا باتیں، حقیقت سے بات کو ہٹا دینا۔ایسے اعمال جن سے انسان ارواح خبیثہ سے تعلق پیدا کرتا ہے۔اعلیٰ درجہ کی لطیف بات کو بھی سحر کہتے ہیں۔حضرت نبی کریم نے فرمایا ہے۔وَاِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا (صحیح بخاری کتاب النکاح باب الخطبۃ)۔پس معلوم ہوا کہ سحر ممدوح بھی ہے او رمذموم بھی۔سحر کی میں نے بڑی کتابیں پڑھی ہیں۔بعض لوگ تو خواص اشیا میں کام کرتے ہیں۔ہمارے ملک کے لوگ تو کیمیا کے پھندے میں پھنس گئے ہیں۔پھر مغربی ملک کے لوگوں نے ریل اور تار برقی وغیرہ ایجادیں کیں۔باریک در باریک تدابیر جس کو پولیٹیکل اکانومی کہتے ہیں۔ایک ہاتھ کی چلاکی، ایک قوت نفسانی کی تحریک، ایک روحوں کی بڑی طاقت ہوتی ہے کبھی لوگوں کو دھوکا دے دیتے ہیں۔جیسے حضرت موسیٰ کے مقابل پر