ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 132 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 132

کمینہ خصلتیں تم میں پیدا ہو گئی ہیں وہ دور ہو جائیں اور بادشاہت کرنے کے لئے تم میں طاقت ولیاقت پیدا ہو جائے۔مَسْکَنَتْ۔بے دست و پاہو جانا۔بنی اسرائیل نے یہ دعا کی اور قبول ہو گئی۔مگر کیسا نقصان اُٹھایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض دعائوں کا قبول ہونا اچھا نہیں بلکہ نہ ہونا ہی اچھا ہوتا ہے۔آیت ۲۔۔مسلمانوں کی تباہی بھی اسی طرح سے ہوئی چھوٹے گناہوں سے بڑے گناہ پیدا ہو تے ہیں یہاں تک کہ آدمی نبیوں کے قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔افسوس ہے کہ اس زمانہ کے مسلمان ان تمام مصائب میں گرفتار ہیں لیکن اب تک کروٹ نہیں بدلتے۔رکوع ۸ آیت ۱۔تحقیق وہ لوگ جو مسلمان ہوئے خواہ وہ یہودی تھے یا عیسائی تھے یا صائب تھے۔پس جو اللہ تعالیٰ پر آخرت پر ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرنے لگے اُن کے ان نیک کاموں کا خدا بدلہ دے گا اور اُن سے تمام خو ف وغم دور کر دے گا۔صَابِیْ۔اپنے آپ کو دین ادریس پر سمجھتے ہیں اور بعض حضرت یحییٰ کو اپنا مطاع مانتے ہیں۔آیت ۲۔بنی اسرائیل کو فرماتا ہے کہ ہم نے تم سے کوہ طور کے نیچے پختہ وعدہ لیا اور تم کو اس امر کی ہدایت کی کہ جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں تم اس پر پورے طور سے عملدرآمد کرنا تاکہ متقی بن جائو۔رَفَعْنَا۔اونچا رکھا۔جیسا کہ (یوسف :۱۰۰) اس کا یہ مطلب نہیں کہ یوسف کے اوپر چڑھ گئے بلکہ یوسف کے پاس گئے۔ایسا ہی ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ لاہور دریائے راوی پر ہے۔عَلٰی اور پر کے مضمون پر غور کرنا چاہئے۔آیت ۳۔تم نے عہد کیا پر پھر تم پھر گئے۔پس یادر کھو کہ اگر تمہاری اس بدعہدی کے بدلہ میں تم کو سزا ملتی اور خدا کا فضل اور رحم تم پر نہ ہوتا تو تم نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوتے۔