ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 133 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 133

وَاذْکُرُوْا۔عمل کرو۔آیت ۴۔اور تحقیق تم جانتے ہو کہ جو لوگ سبت کے دن میں حد سے بڑھ گئے تھے یعنی وہ سبت کے دن کی بے حرمتی کرتے تھے ان کو ہم نے بندر بنا کر …… ذلیل کر دیا۔وہ دراصل بندر ہو گئے تھے۔پارہ ۶ رکوع ۱۳میں بھی ان کا ذکر ہے کہ یہ بندر اور سؤر جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لائے۔نیز دیکھو پارہ نمبر۹۔آیت ۵۔پس ہم نے اس واقعہ کو اُن کی آئندہ نسلوں اور متقیوں کے لئے عبرت بنایا۔وہاں بنی اسرائیل کو سبت کے دن کی عزت وحرمت کی تاکید تھی اور یہاں جمعہ کے دن عزت کی مسلمانوں کو تاکید کی گئی۔مسلمانوں کے سامنے یہودیوں کے اس سبت کے دن کی بے حرمتی کرنے سے بند ربنے، سؤر بنے، بت پرست بنے، ذلیل ہوئے۔اس ذلت کو عبرت کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور ڈرایا گیا ہے کہ دیکھو سبت کے دن کی بے حرمتی کر کے یہودیوں نے یہ پھل پایا ایسا نہ ہو کہ کہیں تم جمعہ کے دن کی عزت سے لاپروائی کر کے موردِ غضب بنو مگر افسوس کہ مسلمانوں نے جمعہ کے دن سے پھر بھی غفلت کی۔آخر کو اب وہ زمانہ آ گیا کہ یہ بھی ذلیل ہو گئے۔مسلمانوں نے عالمگیر کے آخری زمانہ سے جمعہ کے معاملہ میں سستی شروع کی تھی۔آیت۶۔جب خدا تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ موسیٰ کی قوم میں گائے کی عظمت یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ وہ اُس کو خدا کا شریک ٹھہرانے لگے تو اس کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے چاہا کہ ان کے دلوں سے اس شرک کا نام و نشان تک بھی اُٹھا دے۔اس کے لئے یہ ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ !تو اپنی قوم کو یہ حکم دے کہ وہ گائے کو ذبح کریں اور اس کی قربانی کریں۔تاکہ جب وہ اس کے گوشت کو کھائیں تو ان کو یہ بات محسوس ہو جائے کہ واہ ! ہم نے یہ اچھا معبود بنایا ہے کہ جس کا ہم گوشت بھی کھا جاتے ہیں۔جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کہا کہ دیکھو خدا تم کو حکم کرتا ہے کہ تم گائے کو ذبح کرو تو قوم نے کہا کہ اے موسیٰ کیا تو ہمارے ساتھ ہنسی کرتا ہے۔آپ نے فرمایا۔۔میں اس امر کے لئے خدا