ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 131

رکوع ۷ آیت ۱۔۔اور جب موسیٰ نے بہ سبب قلت کے اپنی قوم کے لئے پانی کے واسطے دعا کی تو ہم نے کہا کہ۔۔اپنی جماعت کو پہاڑ پر لے جا یا اپنے عصا کو پتھر پر مار۔اُس نے ایسا ہی کیا۔پس وہاں بارہ چشمے موجود ہو گئے۔ بھی سنت انبیاء ہے۔حضرت نبی کریم ؐ نے بھی نماز استسقا پڑھی ہے۔عصاء کے معنے جماعت کے بھی ہیں اور لاٹھی پر چونکہ پانچوں اُنگلیاں جمع ہو جاتی ہیں۔اس لئے اس کو بھی عصاء کہتے ہیں۔۔بہتے تھے۔فُوْم۔لہسن۔پس ہر ایک سردار نے اپنی اپنی قوم کے ساتھ ایک ایک چشمہ پر قبضہ و تصرف کیا۔پس کھائو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے اور زمین میں فساد مت کرو۔اور جب کہا تم نے اے موسیٰ ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔پس تو اپنے ربّ سے ہمارے لئے دعا کر کہ اُگائے ہمارے واسطے اُس چیز سے کہ اُگاتی ہے زمین۔مثل سبزی ساگ، ککڑیاں، لہسن، مسور اور پیاز کے۔حکم ہوا کیا بدلتے ہو ادنیٰ چیز کو اعلیٰ کے بدلہ میں۔جائو کسی شہر میں اس میں تم کو وہ ملے گا جو تم مانگتے ہو اور اُن پر ذلت اور مسکنت ماری گئی۔اور وہ اللہ کا غضب کما لائے۔اور یہ سب کچھ اس واسطے ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ا نبیاء کے ساتھ بغیر حق کے لڑتے تھے۔ا ور یہ بدلہ تھا اس بات کا کہ وہ حد سے تجاوز کر جاتے تھے۔۔کھیتی باڑی میں پڑو گے تو ذلیل ہو جائو گے کیونکہ خدا نے تو یہ حالت جس سے تم نکلنے کی کوشش کر رہے ہواس لئے تجویز کی کہ تا تم آزادی پسند ہو۔فرعون کی غلامی کرتے کرتے جو