ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 9

عمر کی خدمت خاک میں مل جاتی۔فرمایا۔دیکھو اس کے بعد امام صاحب کبھی کسی کے آگے ہاتھ تو نہیں پسارے۔خدا تعالیٰ انہیں خود ہی دیتا رہا۔سفر مکہ میں پیش آنے والا واقعہ فرمایا۔ہروقت خدائی فضل میرے شامل حال رہا ہے چنانچہ ایک واقعہ بیان فرمایا کہ مکہ معظمہ جاتے وقت بمبئی میں میرے ایک معزز دوست مل گئے جو وہ بھی مکہ جاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میرا صندوق خالی ہے آپ اپنی کتابیں و سامان بھی اسی میں رکھ دیں۔میں نے بے تکلف رکھ دیا۔اتفاقاً جدہ میں وہ جب ضرورتاً اپنی کنجی دیکھی تو نہ پایا۔پس وہ کہنے لگے کہ آپ کا سامان رکھنے سے میری کنجی کھوئی گئی ہے لہٰذا اب آپ کو دینا ہوگا۔میں حیران کہ میں کیا جانوں۔پھر وہ تو لڑنا شروع کیا۔اتنے میں ایک شخص نے کہا اس قدر کیوں دِق کرتے ہو مکہ چلو میں لوہار ہوں اس سے عمدہ کنجی تمہیں بنادوں گا۔وہ تھے ضدی کہنے لگے مجھے دوسری کنجی سے کوئی سروکار نہیں مجھے تو اپنی وہی کنجی چاہیئے۔خیر میں نے کہا کہ صبر کرو اگر خدا چاہے تو آپ کو وہی کنجی مل جائے گی لیکن وہ نہ مانتا تھا نہ مانے اور اس قدر روز مُصِر ہوتے کہ جو آب و خور میرا تلخ کردیتے اور کوئی کام بھی مجھے کرنے نہ دیتے اور بالکل ناک میں دم کردیا۔بالآخر میں نے دعا کیا کہ یاالٰہی تو ہی ہر بات پر قادر ہے تو فضل کر اور ان کی کنجی دلادے۔چنانچہ اس کے بعد صبح کو اتفاقاً ترکوں کے کیمپ میں چوری ہوئی اور چور فرار ہوگئے۔ایک ترک جو چوروں کے پیچھے دوڑا تو صرف ایک کنجیوں کا گچھا کہ جس میں بہت سی کنجیاں تھیں ہاتھ آگیا جس کو چوروں نے غفلت سے جلدی میں چھوڑکر بھاگ گئے تھے۔وہ اس گچھے کو غصہ سے ہماری طرف لے آیا۔میں جو دیکھا تو اس گچھے میں وہ کنجی بھی موجود تھی۔چونکہ ترک عربی نہیں جانتے۔میں نے ایک مترجم سے کہا کہ اس کو کہو کہ اس میں ایک کنجی میری بھی ہے اگر مجھ کو آپ چور سمجھتے ہیں تو بے دریغ پکڑ لیں لیکن براہ کرم وہ کنجی تو مجھے دے دیں۔وہ یہ سن کر بہت غصہ ہوا۔اگرچہ میں نہیں سمجھ سکتا