ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 8
خدا ان لوگوں کو ہدایت دے۔یہ لوگ تمام انبیاء کی تعلیم پر پانی پھیرنا چاہتے ہیں اور جزا و سزا کے بے ایمان ہیں۔قرآن مجید کی صداقت سچائی اپنے انوار و برکات سے ثبوت دیتی رہتی ہے۔سچائی کا ایک نشان یہ بھی ہے کہ جوں جوں اس پر اعتراض کیے جائیں اس کا صدق ہی کھلتا رہے۔قرآن مجید کی صداقت پر ضمیر انسانی گواہ ہے۔پھر فطرت سلیمہ، تجارب، کتب سابقہ، تمام قوموں کا عملدر آمد۔غور سے دیکھو تو تمام کتب سابقہ کا خلاصہ قرآن مجید کی چند آیات کا ترجمہ ہے۔پھر صحابہ کی بزرگی قرآن مجید کی صداقت پر زندہ گواہ ہے۔حضرت ابوبکرؓ کے باپ کا نام بحیثیت تاریخی انسان ہونے کے کسی تاریخ میں نہ پاؤ گے مگر اب حضرت ابوبکرؓ کی قوم صدیقی کہلاتی ہے اور دنیا کے ہر حصے میں موجود اور معزز و محترم ہے۔(تشحیذالاذہان قادیان) (الحکم جلد ۱۶ نمبر۵ مورخہ ۷؍ فروری ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۰) کلام الملوک ملوک الکلام (مکتوبہ سید بشارت احمد صاحب دکنی) نوٹ۔سید صاحب نے اس کلام کے ترتیب دینے میں دکنی اردو زبان کا استعمال کیا ہے جو کہ ان کی مادری زبان ہے ہم نے بھی اس میں تغیر نہیں کیا کیونکہ اس میں بھی ایک لطف ہے۔(ایڈیٹر) حضرت امام بخاریؒ کے سفر کا واقعہ فرمایا۔ایک وقت امام بخاری علیہ السلام جہاز میں سفر کر رہے تھے اور ان کے ہاں ایک ہزار دینار بھی تھے۔اچانک کسی بدمعاش نے جو دیکھ پایا تو غل مچانے لگا کہ میرے ایک ہزار دینار کسی نے چرا لیا۔حضرت نے جو سنا تو فوراً آہستگی سے دینار دریا میں ڈال دیا۔جب سب کی تلاشی لی گئی تو ان کی بھی تلاشی لی گئی لیکن ان کے ہاں سے بھی نہ نکلے۔اس بدمعاش نے بعد میں پوچھا کہ حضرت آپ کے ہاں تو ایک ہزار دینار میں نے اپنی آنکھوں خود دیکھ چکا تھا، پھر آپ نے اسے کہاں غائب کیا۔فرمایا۔او کمبخت! میں نے اپنی تمام عمر حدیث میں صرف کیا اور تو چاہتا تھا کہ مجھے متہم کردیوے، اس لیے میں نے انہیں دریا میں ڈال دیا تاکہ متہم نہ ہوجاؤں ورنہ میری تمام