ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 10

تھا لیکن بشرہ و طرز گفتگو سے سمجھ گیا کہ وہ بہت غصے میں ہے مگر پھر بھی میں نے یہی کہوایا تو وہ بالآخر ہنس پڑااور کہنے لگا کہ کبھی چور نے اپنے منہ سے بھی اقبال کیا ہے۔لہٰذا وہ گچھا پھینک دیا۔میں نے جھٹ وہ کنجی نکال لی اور پھر وہ صاحب کو دے دی۔وہ بہت ہی نادم اور خفیف ہوئے اور بڑی ہی معذرت چاہی۔ہادی کے آنے سے پہلے اور بعد میں قوم کی حالت فرمایا۔جب تک ہادی نہیں آتا اس وقت تک بڑی بڑی قسمیں کھا کر لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر ہمارے وقت میں ہادی آجاوے تو ہم اور قوموں سے بڑھ کر اس کی فرمانبرداری کریں گے مگر جب ہادی آتا ہے تو اس سے دشمنی کرتے ہیں گھر سے نکالتے ہیں۔یہ سب بوجہ استکبار کرتے ہیں۔پھر یہ برائی کے مکر آخرکار انہیں پر لوٹ پڑتے ہیں۔یہی اللہ تعالیٰ کی سنت قدیم سے ہے اس میں کوئی تبدل نہیں ہوتا اور نہ آیا ہوا عذاب لوٹ جاتا ہے۔انبیاء آتے ہیں اور اپنا کام کرہی جاتے ہیں۔اس زمانہ میں اس کی نظیر ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔وقت معین کی قدر کرو فرمایا۔اگر اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال بد پر پکڑنے لگے تو کوئی ایک جاندار بھی زمین پر باقی نہ رہے۔کُل چرند و پرند جو انسان ہی کے لیے خادم پیدا کیے گئے تھے وہ بھی ساتھ ہی نیست کردیئے جاویں۔یہ اس کا بڑا فضل ہے کہ ایک وقت معین تک مہلت دی گئی ہے اس کی قدر کرو۔جب اجل مقدر آپہنچے گی تو کیا معلوم کہاں پہنچائے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ ہی خبیر و بصیر ہے کہ کیا معاملہ اس کے ساتھ ہوگا۔وحی الٰہی اور مہبط وحی فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی وحی مہبط وحی پر اس کے حسب استعداد نازل ہوتی ہے۔خاتم انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی استعداد معلوم کرنا ہو تو سارے قرآن کریم پر نظر کرے۔حضرت عائشہؓ سے کسی نے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلق کی نسبت سوال کیا تھا۔حضرت عائشہ نے جواب ایک ایسا ممتاز فقرہ فرمایا کہ جتنی تاریخیں جس قدر سوانح آپ کے حالات میں لکھی گئی ہیں وہ سب اس