ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 54
اور مجاہدات میں شدید کوفت ہو جاتی ہے اس لئے اس میں سماع اور وحدت کا مسئلہ آرام دہ ہے۔مگر آپ ہی انصاف سے فرماویں اب سجادہ نشینوں میں وہ ریاضت شاقہ کہاں۔حضرت عثمان ہارونی سے لگاتار سلطان جی تک جو وحدت چشتیہ ہے اس کا خاتم حضرت چراغ رضی اللہ عنہ ہی نظر آتا ہے۔پھر آرام و راحت کا وقت آ گیا اور قبولیت عامہ کا تاج جب نسبتاً چشتیہ پر رکھا گیا تو رفتار و کردار میں گفتار زیادہ ہوتی گئی۔پھر یہی شاہ تونسہ کے مجاہدات اور اسفار شاقہ کو دیکھ کر گو نہ تسلی ہوتی ہے اور خواجہ سلطان الہند کے ریاضات کا ذرہ سانقشہ نظر آجاتا ہے۔یہ سرّ سماع و وحدت کا مجھے معلوم ہوتا ہے۔عام طور پر دنیا پرستی، ہوا و ہوس اور بنائو ریا ء و سمعہ تک مجالس سماع کی نوبت پہنچ رہی ہے۔اِلَّا مَنْ عَصِمَہٗ اللّٰہٗ وَ ھُوَ عَلٰی مَا یَشَائُ قَدِیْرٌسخن موزوں سے بھلا انکار ہو سکتا ہے۔قرآن کریم خود موزوں ہے۔آپ کا استنباط مسئلہ سماع پر میرے کلام سے صحیح ہے۔مجھے مدینہ طیبہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ وَالْبَرَکَاتُ وَالرَّحْمَۃ ہو۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُـہٗ عَلَیْکَ وَعَلٰی اٰ لِکَ اُلُوْفٌ اُلُوْفٌ مِنَ الصَّلٰواتِ وَ الْبَرَکَاتِ۔ایک رؤیا ہوئی۔مجھے شاہ غلام علی فرماتے ہیں مجدد صاحب وحدت وجود کے قائل نہ تھے۔میں نے اپنے مکرم شیخ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا۔کیا تو قائل ہے؟ میں نے عرض کیا کہ بعض نظاروں کے باعث قائل ہوں۔تو ہنس کر فرمایا۔کچھ دنوں کے بعد قائل نہ رہو گے۔آپ ہر روز ایک رکوع دو رکوع بتدبر قرآن کریم بہ نیت عمل پڑھا کریں اور یوں یقین کریں کہ آپ پر ہی نازل ہو رہاہے اور گھر میں چند سطریں سنا دیں اور یقین کریں کہ دوپر نازل ہو رہا ہے۔پھر میاں بی بی مل کر دعا کریں کہ توفیق عمل عطا ہو۔پھر کچھ حصہ خاص احباب کو سناویں اگر کوئی فہم سے بالا رہ جاوے تو اسے یادداشت میں اچھے خط سے درج کر دیں۔سنت متوارثہ مشترکہ بین المسلمین صلوٰۃ و زکوٰۃ و حج و صوم عمل میں رکھیں۔وَاللّٰہ الموفق۔سنی و شیعہ مقلد و غیر مقلد میں فرائض مشترکہ ہیں صرف فاتحہ الکتاب کا ایک مسئلہ ہے جو جھگڑے