ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 512 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 512

حدیث پڑھائی ہے۔عبداللہ بن عمرؓ سے ایک شخص نے غلام خریدا۔آٹھ سو درم قیمت دی۔پھر واپس لایا کہ یہ غلام عیب دار ہے۔غلام کو لوٹانا چاہا۔یہ قصہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حضور میں بھی پیش ہوا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اس غلام کو واپس لے لیا۔اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا خریدار بھیج دیا جس نے اس غلام کی پندرہ سو قیمت دی۔نماز ایک معراج ہے مومن کی۔ایک بادشاہ آتا ہے تو کس قدر اس کے لیے تیاریاں ہوتیں اور کیسی کیسی صفائیاں ہوتی ہیں۔مومن نماز میں اپنے ربّ سے سرگوشی کرتا ہے اس کے لیے بادشاہ کی ملاقات سے کہیں زیادہ تیاری کرنی چاہئے۔اگر کوئی سفید پوش ہو تو اس کو خفیہ طور پر کچھ دے دیا کرو اور اگر کوئی غریب مسکین ہو تو اس کو علانیہ دینے میں کوئی ہرج نہیں۔بقیہ کلام امیر المؤمنین نوشتہ سکینۃ النساء از درس برائے خواتین مسلمانوں کو کس نے تباہ کیا؟ فرمایا۔مجھے رونا آتا ہے میرا دل روتا ہے مسلمانوں میں کیسی سستی آگئی ہے۔اللہ کا رحم و فضل و کرم ہو۔فرمایا۔اصل میں مسلمانوں کو تین چار گروہوں نے تباہ کردیا ہے۔ملاں لوگ، سجادہ نشین، امیر، طبیب۔ملّاں لوگوں نے قرآن حدیث کی پرواہ نہیں کی۔اگلے مسلمان بادشاہوں نے ہر گاؤں کے محلہ میں ایک ایک دینی پیشوا یعنی مولوی بٹھا دیا تھا اور اس کے گزارے کے واسطے شادی غمی میں کچھ مقرر کروادیا اور ہر روز کی پکی پکائی روٹی مقرر کروادی تاکہ اس کا گزارہ چلتا رہے اور لوگوں کو دین اسلام کی باتیں سکھلایا کرے۔مگر یہ خدا سے دور جاپڑے اور ایسی گمراہی میں جاپڑے کہ خدا کا خوف ہی دل سے بھلا دیا۔ایک دفعہ میں گلی میں جارہا تھا کہ ایک ملاں جو مجھے جانتا تھا سامنے سے آرہا تھا۔جمعرات کا دن تھا۔اس کے ہاتھ میں بہت ساری روٹیاں اور حلوا تھا۔مجھے دیکھ کر ان کے گرد کپڑا دے لیا اور ہنسنے لگا اور مجھے اشارہ کیا کہ دیکھا تم نے مولوی بن کر کیا لیا۔میں نے کہا تمہیں خدا کا خوف