ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 511 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 511

کلام امیر المؤمنینؓ فرمایا۔اللہ تعالیٰ بادلوں سے پانی نازل فرماتا ہے تو خوشبو کے پھول میوے اور مختلف عمدہ قسم کی روئیدگی پیدا ہوتی ہے تو کہیں کُھمب اور گھاس پھونس بھی پیدا ہوتا ہے۔انار کا پوست سخت اور قابض ہوتا ہے مگر اس کا دانہ کیسا خوش رنگ اور خوشگوار ہوتا ہے۔سنگ مرمر سفید، سنگ سرخ، سنگ موسیٰ اور کالے بھجنگ پتھر پیدا ہوتے ہیں۔بس اسی طرح انسانوں کا بھی حال ہے کہ ہر رنگ و طبیعت کی مخلوق خدا نے پیدا کی ہے۔جانوروں میں طوطی سبز، سرخ، سفید ہر رنگ کی ہوتی ہے۔گھوڑے ابلق اور نقرے ہیں۔اسی طرح ہر ایک مخلوق میں مختلف قسم کے فرق ہیں۔ہمارے لیے روحانی بارش یہ ہے کہ خدا کے کلام سنانے والے مامورین آتے ہیں اس کلام کو ابوبکرؓ نے بھی سنا اور ابوجہل نے بھی سنا۔حضرت عمرؓ نے سنا اور ابوالہب نے بھی سنا۔ہر ایک کا سننا جدا جدا تھا۔خدا کے کلام کو موسیٰ کی ماں نے بھی سنا اور فرعون نے بھی سنا۔قارون اور ہامان نے بھی سنا۔مگر نتیجہ ہر ایک کے سننے کا مختلف تھا۔میں بھی تم کو قرآن شریف اللہ تعالیٰ کا کلام ہر روز سناتا ہوں۔اللہ تعالیٰ تم کو گلاب کا پھول بناوے کھمب نہ بناوے۔سنگ مرمر بناوے سیاہ بھجنگ نہ بناوے۔صبغۃ اللہ سے رنگین کرے۔فرعون، قارون، ہامان نہ بناوے۔بعض علم پڑھ لیتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں مگر عمل میں بڑے کچے ہوتے ہیں۔تم سے اگر غلطی ہوجاوے تو استغفار کرو۔اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے۔تم یہاں کیوں اکٹھے ہوئے؟ اس لیے کہ اللہ جلشانہٗ کا نام لینے والے بنو۔بڑے بڑے بادشاہ ہندوستان میں ہو گزرے ہیں۔محمود غزنوی ہو گزرا ہے، محمد تغلق آیا، تیمور آیا، اکبر، ہمایوں، جہانگیر آیا، بابر، عالمگیر وغیرہ وغیرہ آئے۔تم نے سنا کہ میں نے کس عزت سے ان کے نام لیے۔اس ملک میں حضرت فریدالدین شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ بھی ہو گزرے، حضرت خوا جہ معین الدین چشتی ؒ بھی ہوگزرے ہیں، حضرت مجدد الف ثانی، حضرت احمد سرہند بھی ہوگزرے ہیں۔تم نے سنا کہ ان بزرگوں کے نام میں نے کس عزت سے لیے ہیں۔تجارت تم لوگ کیا کرتے ہو مگر تجارت شراکت کا علم نہیں سیکھتے۔ابھی اس وقت میں نے ایک