ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 513
نہیں تو وہ بڑے جوش سے کہنے لگا خدا کا خوف کرنے لگیں تو یہ اتنی روٹیاں مفت کہاں سے ملیں۔سجادہ نشینوں نے تو بت پرستی میں مبتلا کردیا۔قبر پرستی اور مردہ پرستی شروع کروا کر خطرناک شرک میںمشغول ہوگئے۔اصل میں مقبروں کی طرف جانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مقصد بتائے۔ایک تو یہ کہ موت یاد آجاوے۔دوم دعائے مغفرت اپنے لیے۔سوم مردہ کے لیے مغفرت مانگنا۔سب سے زیادہ کبیرہ گناہ ہے کہ صاحب قبر سے کچھ مانگا جاوے۔دیکھو حضرت صاحب سے میرا بے حد پیار تھا اور میں ان پر مال و جان سب کچھ اپنا قربان کرنا چاہتا مگر میں نے ان کی قبر پر کبھی کسی مطلب کی دعا نہیں کی نہ کرنی جائز ہے۔یہ سب سخت گناہ اور شرک ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بچاوے۔اب امیروں کی سنو۔امیروں نے دین کی طرف توجہ چھوڑ دی یہاں تک کہ مسجد میں آنا ہی ہتک سمجھا۔کیونکہ جس فرقہ کی جانب توجہ کرتے رعیت کے دوسرے فرقہ کے لوگ ناراض ہوجاتے۔رعیت کے مولوی تو ایک دوسرے کو کافر جان کر دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تو یہ کس کس کی دلداری کرتے۔جس کے پیچھے نماز پڑھتے وہ راضی دوسرا ناراض، تو مسجدوں میں جانا ہی چھوڑ دیا۔طبیب اس سے بھی زیادہ بڑھ گئے کہ خدا ہی بن بیٹھے۔شبانہ روز مخلوق اللہ کو لگے لوٹنے۔بعض رگوں میں سیاہ خون ہوتا ہے، بعض میں سرخ۔تو سیاہ رنگ کا خون چھڑا دیا اور مریض کو کہا کہ اوہو تیرا تو خون سیاہ ہوگیا ہے اور اپنی طبابت چلانے کا وسیلہ بنالیا۔اک میرے دوست تھے جو بہت محبت بھی کرتے۔مال سے بھی امداد کرتے۔اکثر روپیہ سے مدد کرتے۔وہ فوت ہوگئے۔ان کی ایک لڑکی ایک دفعہ میرے پاس آئی کہ حضور میںبیمار ہوں نسخہ لکھ دیں۔میں نے مرض تشخیص کرکے کہا ڈیرہ سے دوائی بھجواتے ہیں تو جھٹ کہتی ہے نہیں حضور آپ نسخہ لکھ دیں خود بنوالوں گی۔میں نے نسخہ لکھ دیا۔دوسرے دن پھر آئی۔کہا حضور دوائی بھجوادیں مجھے شاید دوائیں خالص نہ مل سکیں۔تو میں نے کہا کہ لڑکی کل میں نے خود ہی تمہیں کہا تھا کہ دوائی بھجوادوں گا اور بڑی خوشی سے بھجوادوں گا۔کیونکہ اوّل تو تیرا باپ ہمارا دوست تھا۔دوسرے ہمیں کبھی ایسی باتوں کا خیال تک نہیں آیا کہ دوائی میں یا نسخہ میں بخل کرنا ہے۔تو سچ بتاؤ کہ یہ بات کیا ہے