ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 510 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 510

تھی قرآن شریف کی آیت سے بتلایا کہ دیکھو ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا جو تم مجھے ہاتھی کی دھمکی دیتے ہو۔محمود جسے قرآن شریف کے ساتھ محبت تھی فوراً سمجھ گیا اور اس پر ایسا اثر ہوا کہ خلیفہ بغداد کو عذر کا خط لکھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے بادشاہوں کو قرآن شریف سے محبت تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ تمام مادی طاقتیں ان کے سامنے ادنیٰ لونڈی کی طرح ہاتھ باندھے کھڑی تھیں۔جس طرف جاتے تھے فتح و نصرت کے شادیانے بجتے جاتے تھے۔جب آدمی دین کو مقدم کرتا ہے تو دنیا خود بخود ہی درست ہوجاتی ہے۔بے انصاف مسلمان بادشاہ زیادہ دیر بادشاہت نہیں کرسکتا فرمایاکہ بے انصاف کفار بادشاہوں کی سلطنتیں بہت دیر چلی جاتی ہیں مگر بے انصاف مسلمان بادشاہ کی سلطنت زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتی۔اس کی وجہ یہ کہ اس بے انصاف مسلمان بادشاہ کے اعمال اور افعال کو اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ اسلام کو بدنام کرنا نہیں چاہتا۔تاریخوں کے اوراق پلٹا کر دیکھ لو مذہبی کتابوں کو ٹٹولو کبھی بے انصاف مسلمان بادشاہ کو زیادہ دیرتک تخت پر نہیں پاؤ گے۔سبحان اللہ کیا عجیب اور معرفت کا نکتہ ہے۔کیا اب بھی اسلام کی صداقت میں کچھ شک و شبہ رہ سکتا ہے۔شوخ آدمی جلد تباہ ہوجاتا ہے فرمایا کہ کفر سے چشم پوشی کی جاسکتی ہے مگر ایک شوخ آدمی کی شوخی اور شرارت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔شوخ آدمی جلد ہی تباہ ہوجاتا ہے۔اس لئے شوخی سے بچنا چاہیے کیونکہ شوخی سے بڑھ کر اور کوئی برائی نہیں۔عرب کیوں کمزور ہوگئے فرمایا کہ جب اوّل اوّل عربوں نے یونان کو فتح کیا تو یونان کی عورتوں سے شادی کر لی۔تو یونان کی عورتیں جو نزاکت پسند تھیں ان کے بچے بھی بجائے بہادر اور دلاور ہونے کے آرام پسند پیدا ہوئے اور ان کے تعلقات بھی ننہیال کے ساتھ ہی زیادہ رہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کی آئندہ نسل بہادری اور دلاور انہ صفت کو کھو کر کمزور اور آرام طلب ہوتی گئی۔(اخبار نور جلد ۳ نمبر۶ مورخہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۴،۱۵)