ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 509
رحمانیت، حی، قیوم، مالک ہونے پر بڑا زور دیتا ہے۔فرشتے فرمایا۔فرشتے خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں بعض ناعاقبت اندیش اس پر اعتراض کرتے ہیں بھلا ان سے کوئی یہ پوچھے کہ کیا تم اس وقت موجود تھے۔جو اعتراض کرتا ہے وہ احمق ہے کیونکہ جس نے بنائے وہ کہتا ہے( الزخرف : ۲۰) کیا یہ لوگ اس وقت موجود تھے جبکہ فرشتے پیدا کئے گئے۔ان کا بیان لکھا جائے گا اور (قیامت کے دن ) ان سے پوچھا جائے گا۔نصیحت جو چیز تمہیں نہیں آتی اس خدا کے حوالہ کرو۔ہندؤوں نے سہسر بھجوں والا دیوتا یعنی سو بازؤوں والا دیوتا بنایا ہے ممکن ہے کسی پر انکشاف ہوا ہو ہم ایک آدمی کی خیالی تصویر بناتے۔مگر وہ مشاہدہ کے وقت غلط نکلتی ہے۔شاہان سلف اور قرآن شریف فرمایا کہ محمود غزنوی اور خلیفہ بغداد کے درمیان کچھ ناچاقی ہونے پر محمود غزنوی نے خلیفہ بغداد کو لکھا کہ تمہیں معلوم نہیں میرے پاس اس قدرہاتھی اور لاؤ لشکر وغیرہ ہے کہ میں بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔خلیفہ نے ایک خوبصورت کاغذ لے کر اس پردو دفعہ الم الم لکھ کر قاصد کے ہاتھ محمود غزنوی کے پاس بھیج دیا۔دربار کے اہلکاروں نے وہ کاغذ دیکھا اور حیران ہوگئے۔الم الم پڑھتے مگر مطلب کو نہ سمجھ سکتے۔محمود غزنوی فوراً تاڑ گیا۔جب درباری اہلکاروں کو زیادہ حیران اور استعجاب میں پایا تو محمود غزنوی نے کاغذ لے کر فرمایا کہ کیا تم نے سمجھا دو دفعہ الم الم لکھنے سے خلیفہ کا کیا مطلب ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔محمود نے کہا میں اس کا مطلب سمجھ گیا ہوں اس میں سورۃ الفیل کی طرف اشارہ ہے جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(الفیل:۲،۳)۔نکتہ۔محمود غزنوی نے ہاتھیوں کی دھمکی دی تھی۔خلیفہ بغداد نے جسے قرآن شریف کے ساتھ محبت