ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 506
کرو ہمیں یہ چیز لاکر دو۔تو کیا اللہ کے اپنے محسن کریم مولا کے حضور پانچ وقت سجدہ کرنے میں اس کا کلام پاک پڑھنے میں یہ بہانہ کہ ابھی بہت کام پڑا ہے فارغ ہوں تو نماز پڑھوں۔فراغت ملے تو قرآن کریم پڑھوں یا سنوں۔دیکھو میری ماں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں بڑے بڑے درجات عطاء کرے بہت سارے بچوں کی ماں تھیں مگر وہ کبھی نماز قضا نہ کرتیں۔ایک چادر پاک صاف صرف اس لیے رکھی ہوئی تھی کہ نماز کے وقت اسے اوڑھ لیتیں۔نماز پڑھ کر معاً اوپر کھونٹی پر لٹکا دیتیں۔فرقان حمید کا پڑھنا کبھی قضاء نہ کیا۔بلکہ میں نے اپنی ماں کے پیٹ میں قرآن مجید سنا۔پھر گود میں سنا اور پھر ان سے ہی پڑھا۔سو تم بھی اپنی اولاد کو خود قرآن شریف پڑھاؤ۔اس پر سمجھنے کی دعا مانگو اور عمل کی توفیق مانگو اور تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگو کہ اللہ پاک ہم کو اور ہماری اولاد کو قرآن پر عمل کی توفیق دے۔آمین تبلیغ اسلام یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور بہت بڑا احسان ہے کہ تم کو انسان پیدا کیا۔سو تم انسان بننے کی کوشش کرو۔انسان کے معنے ہیں دو ۲ انس اس کے اندر ہوں۔یعنی ایسا پیار اللہ سے ہو کہ خدا کے سامنے کسی چیز کی پرواہ نہ کرے۔دوم اللہ کی مخلوق سے بھی پیار رکھے، نیکی کرے انسان تب انسان بنتا ہے۔سو تم کو خداوند کریم نے پاکیزہ شکلیں عطا کیں۔ستھرے لباس دیئے۔کیا اس کے شکریے میں یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ کی مخلوق کو اس کریم رحیم مولا کا نام ہی بتاؤ۔دیکھو تمہارے گھروں میں سویرے ہی بھنگنیں آتی ہیں۔ان کے گندے لباس ہیں۔ہروقت گندگی میں رہنا ان کا کام ہے۔تمہارے گھر گندگیوں سے پاک صاف کرتی ہیں تو کیا اس کے شکریے میں اتنا بھی نہیں ہوسکتا کہ تم ان کو پیدا کرنے والے واحد لاشریک کا نام ہی بتا دو۔آہ! کاش تم ان کو کبھی ایک پاک بات سکھلا دیتیں۔میں ایک دفعہ گلی میں جارہا تھا کہ ایک خوش پوشاک شخص نے مجھے سلام کیا اور کچھ روپیہ پیش کیا۔میں نے غور سے دیکھا مگر سمجھ نہیں آیا کہ کون ہے۔تو وہ کہنے لگاحضور نے مجھے پہچانا نہیں میں آپ کے ڈیرے کا خاکروب تھا۔میںنے کہا یہ وضع کب سے بنائی۔تو کہا حضور میں عیسائی ہوگیا تو مشن سکول میں عیسائیوں نے مجھے پڑھانا شروع کیا حتیٰ کہ ترقی کرتے کرتے میں اب ہیڈ ماسٹر ہوں۔میں نے دل میں ندامت سے کہا کہ ہمارے ڈیرے میں بھی تو یہ رہا مگر کسی کو توفیق نہ ملی کہ اسلام کا رستہ اسے