ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 505
(درس خواتین میں سے چند نوٹ) ہمارا بفضل خدا ستائیسواں پارہ ختم ہونے والا ہے۔اس عرصہ میں حضرت خلیفۃ المسیح نے بہت نادر نادر نکتے بیان فرمائے جو میں نے کبھی کبھی لکھے۔مگر پھر خیال آتا کہ حضرت جو کچھ اندر مستورات میں فرماتے ہیں وہی باہر فرماتے ہوں گے جس کے نوٹ لکھ لئے جاتے ہیں۔پھر معلوم ہوا کہ مردوں میں غالباً بائیسواں تئیسواں پارہ ہے اس لیے وہ چند ضروری نوٹ جن کو حضرت نے بہت جوش سے فرمایا ذیل میں درج کرتی ہوں۔اگر میری بہنیں اور بھائی پسند فرماویں گے تو دعا فرماویں کہ آئندہ مجھے توفیق ملے کہ کچھ نہ کچھ اپنی بہنوں کی خدمت کرتی رہوں۔والسلام۔عاجز سکینہ بیگم (اہلیہ اکمل) از قادیان دارالامان دین داری کی تاکید فرمایا۔نمازوں میں بہت سستی ہے۔خاوندوں سے جھگڑے ہیں۔آپس میں جھگڑے ہیں۔قادیان کی آبادی پانچ ہزار ہے پھر غور کرو تم میں کتنی قرآن شریف سنتی ہیں پھر پڑھتی کم ہیں۔اگر کچھ پڑھتی ہیں تو سمجھتی نہیں۔اگر سمجھتی ہیں تو عمل کرنے والی بہت کم ہیں۔فرمایا۔دیکھو کسی پیارے عزیز کی چٹھی آجاوے تو کیسے اہتمام سے سنتی ہو مگر اپنے پیاروں سے بھی پیارے مولا کریم کی چٹھی نہیں سن سکتیں۔قرآن شریف کو صبح شام اٹھتے بیٹھتے اپنا شعار بناؤ۔فرقان حمید پڑھنے والاکبھی مجنون نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ میں حفاظت کرتا ہوں۔بچوں کی سردی اپنی سردی کا فکر، پھر گرم کپڑوں کی فکر ہے اور اپنے نفس کی اصلاح کی فکر نہیں۔اپنے دین کا خیال کرو۔نمازوں میں سستی مت کرو۔عورتیں نمازوں میں ضرور سست ہوتی ہیں۔عصر کو کام کاج، کھانے پکانے کا بہانہ، شام عشاء کو بچہ کے سلانے کا بہانہ، صبح سردی کا بہانہ، رات بچے کے پیشاب سے بدن کو پلید کرلینے کا عذر کرلیتی ہیں۔یہ سب بہانے ہیں۔دین کو دنیا پر مقدم کرنا اسی کا نام ہے کہ یک دم تمام دنیاوی کام چھوڑ کر اپنے مولا کے حضور حاضر ہوجاوے۔کیسی ہی مشکل بنے کچھ پرواہ نہ کرے۔دیکھو عید کی آمد سے مہینہ پندرہ دن پہلے تم عمدہ عمدہ کپڑے بنوانے، عمدہ کپڑے رنگنے، سینے سلانے میں بہت سا وقت خرچ کردیتی ہو اور خاوندوں کو فرمائشوں پر فرمائشیں ہوتی ہیں کہ صاحب چوری کرو، کچھ