ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 507
بتاتا اور کیسی چستی سے دوسروں نے ترقی کی۔سو میں تم کو نصیحت کرتا ہوں اور قرآن کریم کا حکم سناتا ہوں کہ حق نہ چھپاؤ۔ضرور کہہ دو۔کوئی تمہیں برا کہے کچھ پرواہ نہ کرو۔خدا تعالیٰ کی راہ میں سختیاں سہنا ہی جہاد ہے۔فرمایا۔مجھے رونا آتا ہے میرا دل روتا ہے مسلمانوں میں کیسی سستی آگئی ہے۔اللہ کا رحم و فضل کرم ہو۔ہمیشہ خوش رہنا فرمایا۔بہت ہمارے مرد اور عورتیں چاہتی ہیں کہ جو چیز ہم چاہیں وہ دنیا میں مل جائے۔مگر یہ تو جنت کا نشان ہے کہ جو دل چاہے وہ مل جاوے۔کام کرنا دوزخیوں کے اور چاہنا جنت۔میرے ایک بزرگ استاد تھے (رحمہ اللہ تعالیٰ) میں ان سے رخصت ہونے لگا تو عرض کی حضرت کوئی ایسا نکتہ معرفت فرماویں جس سے میں ہمیشہ خوش رہوں۔تو وہ ایسی دلربا وضع سے بیٹھے کہ ہم نے سمجھ لیا کہ کوئی لطیف بات کہنے لگے ہیں۔(کیونکہ کوئی لطیف بات کہنے لگتے تو اسی طرح بیٹھا کرتے) فرمانے لگے کہ ہمیشہ خوش رہنا تو بہت آسان بات ہے۔’’خدا نہ بنا کرو‘‘۔عرض کی حضور کوئی انسان بھی خدا بنا کرتا ہے؟ فرمایا۔تم خد اکسے کہتے ہو؟ عرض کی کہ خدا جو چاہے وہ ہوجاتا ہے مگر بندہ نہیںکرسکتا۔فرمایا۔بس جو خدا بنے وہ دکھی ہوتا ہے انسان جو چاہے نہیں ہوسکتا۔اپنے نفس کو سمجھاؤ کہ تُو جو چاہے ہو جائے یہ نہیں ہوگا کیونکہ تُو خدا نہیں۔سو یہ بڑا یاد رکھنے والا اور سمجھنے والا نکتہ ہے۔پیر کا نشان پیر میں تین صفتیں ہونی چاہئیں۔کہ پیر جاہل نہ ہو، کسی سے بے جا محبت رکھنے والا نہ ہو، بے عمل نہ ہو۔(البدر جلد۱۱ نمبر۱۱ مؤرخہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) نور کی کرنیں (حضرت اقدس کے درس سے ) انسان محتاج ہے فرمایا۔انسان ان گنت چیزوں کا محتاج ہے کھانے کا، پینے کا، پہننے کا۔پھر اس کے آگے چل کر موچی ، بڑھئی، درزی وغیرہ کا۔مگر ان سب احتیاجوں کا پورا کرنے والا ایک اللہ ہی