ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 504 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 504

انڈا دینا ہو تو اس کی آواز کیا ہوتی ہے، جب دے چکے تو کیا۔جب بچوں کے ساتھ چلے تو کیا۔جب کوئی خطرہ پیش آئے تو کیا۔جب بھوک لگے تو کیا۔وغیرذالک۔سچا علم کون سا علم ہے؟ فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  (فاطر:۲۹) اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھنے والے ہیں تو اس کے بندوں سے عالم لوگ۔گویا سچے علم کی پہچان یہ ہے کہ اس کے صاحب کا قلب خشیۃ اللہ سے لبریز رہتا ہے۔بڑا تعجب ہے کہ اس زمانہ میں لوگ جوں جوں زیادہ پڑھتے ہیں تو ان کے دل سے خشیت الٰہی نکل جاتی ہے۔یہاں تک کہ جو سب سے بڑا عالم ہونے کا مدعی ہو وہ سب سے بڑا اللہ سے نڈر ہوگا۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے۔انہیں اپنی جناب سے وہ علوم دے جن کے پڑھنے سے خشیت الٰہی ان میں آئے۔ابلیس اور شیطان میں کیا فرق ہے؟ ابلیس اور شیطان کی اصل جنّ ہے۔اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ جو چیز اپنی ذات میں بری اور پُر ضرر ہو وہ تو ابلیس ہے۔اورجس چیز کا ضرر متعدی ہو دوسروں کو بھی دکھ پہنچائے تو وہ شیطان ہے۔چنانچہ پارہ اوّل رکوع ۴ میں فرماتا ہے۔(البقرۃ:۳۵) جب تک اس میں انکار و استکبار تھا وہ ابلیس تھا لیکن جب اس کا ضررر متعدی ہوا اور(البقرۃ:۳۷) اس کی شان ہوئی، دوسروں کو بہکانے لگا تو پھر اسے شیطان فرمایا۔سارے قرآن مجید میں خوب غور کرکے دیکھ لو جہاں جہاں ابلیس آیا ہے وہاں اس کا ضرر اپنی ذات میں ہے اور جہاں اس کا ضرر دوسروں تک پہنچا تو نام شیطان ہے۔احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا لفظ بہت وسیع ہے۔آپ نے ایک کبوتر باز کو کبوتری کے پیچھے جاتا دیکھ کر فرمایا۔شَیْطَاُن یَتَّبِعُ شَیْطَانَۃً(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب اللعب بالحمام) النِّسَائُ حَبَائِلُ الشَّیْطَانِ(اعتلال القلوب للخرائطی باب ذکر من فتنۃ النساء عن طاعۃ اللّٰہ جلد ۱ صفحہ۱۰۳ طبع الثانیہ۔ریاض)۔غرض ظلمت کے مظاہر شیاطین ہیں اور نور کے مظاہر ملائکہ۔(البدر جلد۱۱ نمبر۱۰ مؤرخہ ۷؍ دسمبر۱۹۱۱ء صفحہ ۲)