ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 49

کیونکہ وارثوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔پس حضور والا سے دست بستہ عرض ہے کہ شرعاً اس کے لئے کیا حکم ہے (۲)اُس زیور پر جو خدا کے نام پر وقف کر دیا مگر تا عمر اپنے استعمال میں لاوے زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ حضرت امیر المومنین نے جواب میں تحریر فرمایا کہ یہ عہد جائز ہے اگر کسی سخت بیماری میں جس کا نتیجہ موت ہے نہ کیا جاوے۔خود نبی کریم نے ایسا کیا ہے۔زکوٰۃ ایسے زیور پر ضرور ہے مگر یاد رہے کہ علماء کا زیور کی زکوٰۃ پر اختلاف ہے۔بعض زیور پر زکوٰۃ فرض فرماتے ہیں بعض کے نزدیک بالکل زیورپر زکوٰۃنہیں۔بعض کہتے ہیں مستعمل زیور پر زکوٰۃ نہیں باقی پر زکوٰۃ ہے۔اس اختلاف پر مومن کو اختیار ہے کہ عمل کرے۔میں خود زکوٰۃ دلاتا ہوں۔کتاب انساب سادات ایک صاحب نے حضرت امیر المومنین سے دریافت کیا کہ موجودہ سادات کے انساب کی کتاب کون سی ہے؟ حسب الحکم امیر ایدہ اللہ جواب لکھا گیا۔حضر ت فرماتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے سادات کے انساب کی کتاب کس طرح ہو سکتی ہے کون ہے جو اتنی محنت کرے کہ تمام جہان میں پھر کر اس کی تحقیقا ت کرے۔جب تک سیدوں کو خمس ملتا تھا اُن کے متعلق رجسٹر رکھے جاتے تھے۔خاندان عباسیہ تک کی کتاب اسنی المطالب فی انساب ابی طالب موجود ہے۔بعد میں ممکن ہے کہ ترکوں اور ایرانیوں کے دفاتر میں ایسے رجسٹر ہوں۔دو سوال اور ان کے جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔امّا بعد معروض آنکہ۔خاکسار کی اہلیہ کے پاس قریباً ایک ہزار کا زیور ہے اور شادی ہوئے قریباً دو سال ہو گئے ہیں مگر تا حال زیور کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی بایں وجہ کہ نہ تو میں ہی زکوٰۃ ادا کر سکتا ہوں اور نہ ہی میری اہلیہ کے پاس نقد مالیت ہے۔اب بذریعہ عریضہ ہٰذا حضور سے دریافت کیا جاتا ہے کہ اس حالت میں آیا زکوٰۃ دینی فرض ہے یا نہیں۔اگر فرض ہو تو آیا زیور فروخت کر کے زکوٰۃ دی جاوے یا کوئی اور صورت کی جاوے۔کچھ زیور تو ہر وقت کے استعمال میں آتا