ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 48

بچہ کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ دینا ایک شخص کا خط آیا کہ کیا یہ جائز ہے کہ بچے کے بال اُتروانے کے وقت اس کے بالوں کے برابر چاندی تول کر صدقہ دی جاوے؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا ہے کہ یہ جائز ہے اور سنّت نبوی سے ثابت ہے۔(البدر جلد۸ نمبر۵مورخہ ۱۰ ؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۹) عورتوں کے ساتھ حسن سلوک ایک شخص نے حضرت امیر المومنین مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میںلکھا کہ میں اپنی بیوی سے نفرت کر کے اس کو اپنے پاس نہ رکھتا تھا اب ڈرتا ہوں کہ میں نے گناہ کیا مجھے کیا کرنا چاہیے؟ حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا۔تمہارا خط پڑھ کر مجھ کو سخت رنج وتکلیف پہنچی۔معلوم ہوا کہ مسلمان کیوں دکھوں اور دردوں اور رنجوں میں مبتلا ہیں۔آہ ! آہ !!آہ!!! تم نے بہت بڑا گناہ اور ظلم کیا کہ پندرہ سالہ ایک عورت کو بے وجہ محض ظلماً قید کیا اور اس کی جوانی کو تباہ کر دیا۔اگر اللہ کا خوف ہے کہ آخرمرنا ہے تو اس کو ساتھ رکھو۔جہاں رہو وہاں ساتھ رکھو جو آپ کھائو اُسے کھلائو۔اگر نہ کر سکو تو اُسے قید سے رہا کردو۔اللہ سے ڈر کر اس کو دکھ سے نجات دو۔ایسا نہ ہو کہ تم پھر اس وبال میں پکڑے جائو۔میں نے بہت غور کیا اور پھر جواب لکھا ہے۔عہد وصیت ایک شخص نے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں لکھا کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کی رضامندی سے مولا کریم سے سچے دل سے عہد کر لیا ہے کہ میں انشاء اللہ مرتے وقت یہ وصیت کر جائوں گی کہ میرے پہننے کا جس قدر زیور ہو اور جس قدر آئندہ حسب توفیق بنوا سکوں گی دارالامان بھیج دیا جاوے۔اس معاملہ کا جب ذکر تذکرہ ہوا تو ایک بزرگ نے فرمایا کہ اس طرح کا عہد کرنا ناجائزہے