ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 485
مسلمان مومن ایک شخص نے عرض کی کہ مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے۔؟ فرمایا۔قرآن شریف میں اسلام کو ایمان بھی کہا گیا ہے۔انشورنس ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا یہ جائز ہے کہ میں اپنی زندگی کو انشیور کرا لوں تا کہ میرے بال بچے کے واسطے بعد میں روپیہ جمع ہو؟ فرمایا۔کیا تم اپنے بچوں کے رازق ہو۔خدا کے پاس ان کے لیے چندہ جمع کراؤ۔نعمت کی قدر کرو فرمایا۔انسان تندرستی کی حالت میں بیمار کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اسی طرح حسین، جمیل، بدشکل کو حقارت سے دیکھتا ہے۔امراء غرباء کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔بعض آسودہ حال لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو خشیت اللہ بہت ہوتی ہے اور اس غرض سے کہ ہماری راحت قائم رہے ضرورت مندوں کی دستگیری کرتے ہیں۔جس طرح دنیا کے مفلس ہوتے ہیں اسی طرح دین کے بھی مفلس ہوتے ہیں ان کی بھی دستگیری ضروری ہے۔حد سے بڑھنے کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا فرمایا۔آدمی جب مصیبت میں پڑتا ہے تو پھر سوچنے لگتا ہے لیکن مبارک ہیں وہ لوگ جو پہلے ہی سے سمجھ سوچ کر کام کرتے ہیں اور مخلوق کی ہمدردی میں مصروف رہتے ہیں۔تاریخ پر لوگ غور نہیں کرتے اور صحابہ کرام کے حالات پر تدبر نہیں کرتے۔یہود کے حالات کو دیکھو اور اپنے ہندوستان کے بادشاہوں کے حالات کی طرف توجہ کرو۔انسان جب حدّ سے بڑھ جاتا ہے اور طغیانی کرنے لگتا ہے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔عمل کرو فرمایا۔مرزائی بننے یا احمدی کہلانے سے نجات نہیں حاصل ہوتی ہے۔کام کرنا چاہیئے۔تکبر نہ کرو فرمایا۔انسان منی سے بنا ہے۔منی کے بھی ایک کیڑے سے۔کیڑے کو پھر چوسنے اور حرکت کرنے کی طاقت ہے اور آگے چلو تو انسان صرف مٹی سے بنایا گیا ہے جس میں حرکت بھی