ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 486

نہیں۔وہ ترابی حالت بھی اس پر آچکی ہے۔پھر جب یہ جوان ہوتا ہے کیسی کیسی چستیاں دکھلاتا ہے۔کبھی قطب جنوبی کو جاتا ہے کبھی قطب شمالی کو۔پھر جوانی کے دن بھی گزر جاتے ہیں۔انسان کہتا ہے چٹاپٹ گزر گئے حالانکہ چٹاپٹ کہاں گزرے۔سالہاسال لگتے ہیں تب جوانی کے دن گزرتے ہیں۔صحت اور طاقت کے دنوں کی قدر نہیں کی جاتی۔کھیل کے وقت لڑکے خیال کرتے ہیں کہ دین دنیا کیا چیز ہے۔وہی کھیل کا میدا ن اور ہاہو ان کا مقصد ہوتا ہے۔سلطان محمود کی غلطی فرمایا۔سلطان محمود پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اس نے عربی کی بجائے فارسی دفتر جاری کیے۔اس لیے مسلمانوں کا عربی کے ساتھ تعلق کم ہوگیا۔فارسی کے لیے بہت کوششیں کی گئی تھیں اب اس نے بھی ہندوستان سے ڈیرہ ڈنڈا اٹھالیا ہے۔عرب کی زبان سے تعلق گیا تو اہل عرب اور قرآن شریف سے دلچسپی گئی۔دین میں ضعف آگیا۔قرآن شریف کا شغل دن بدن گھٹتا چلا گیا۔سادگی اختیار کرو فرمایا۔آج کل مسلمان سادگی کو نہیں جانتے خواہ مخواہ اپنے اخراجات بڑھا لیتے ہیں۔جس مسلمان کو دیکھو ہزاروں کا مقروض ہے۔محنت کے وقت عذر کردیتے ہیں کہ ہم سے محنت نہیں ہوسکتی اور چاہتے ہیں کہ کھانا پینا اچھا مل جائے۔دیکھو میں باوجود اس پیرانہ سالی اور ضعف کے اپنی دوکان چلاتا ہوں بہت سے بیماروں کو روز دیکھتا ہوں گو یہ رزق کے لیے ایک پردہ ہی ہے۔یہ آیت، حدیث نہیں ہے فرمایا۔بعض فقرات اس طرح مشہور ہوجاتے ہیں کہ ناواقف انہیں قرآن شریف کی آیت یا کوئی حدیث خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ وہ کلمہ نہ قرآن شریف میںہوتا ہے نہ کسی حدیث میں۔اسی قسم کے کلمات میں سے ایک ہے لَا عَفْوَ فِی الْکَبَائِرِ۔اور ایسا ہی ایک اور کلمہ کسی کا بنایا ہوا ہے لَا َتتَحَرَّکُ ذَرَّۃً اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ۔مذہبِ محدّثین فرمایا۔نیل الاوطار، محلی بن حزم، فتوحات مکیہ ان کتابوں کے دیکھنے سے محدثین کے مذہب کا حال معلوم ہوسکتا ہے۔یہی اعلیٰ درجہ کی کتابیں ہیں جو محدثین کے مذہب کو ظاہر کرتی ہیں۔