ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 484 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 484

وقت قریباً دو ہزار روپے کا مقروض ہے۔اگر سب احمدی اپنے اوپر حسبِ استطاعت ایک رقم مقرر کرکے اسے باقاعدہ ادا کریں تو اس کے اخراجات بآسانی چل سکتے ہیں۔مگر بہت ہیں جن کو باوجود باربار کی تاکید کے اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔یا کوئی رقم مقرر کرکے وعدہ کرلیتے ہیں تو پھر ادا نہیں کرتے۔پھر ایک مدرسہ ہے جس میں تمہارے بچوں کی دنیوی و دینی تعلیم کا سامان کیا گیا ہے اور اس زہریلی ہوا سے بچانے کی فکر اس میں کی جاتی ہے جس نے بہت سی روحوں کو ہلاک کردیا ہے۔ایک دوسرا مدرسہ ہے جس میں صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے۔اس کے استحکام کے لئے ابھی بہت سے روپے کی ضرورت ہے۔اشاعت اسلام کا سلسلہ ہے۔یتامیٰ اور مساکین کے لئے علیحدہ ضرورت ہے۔ایسے ہی اور کئی قسم کے ضروری کاروبار ہیں جن میں تم سب کو حِصّہ لینا ضروری ہے۔پھر ان کے ساتھ ہر ایک کام کے لئے عمارت کی ضرورت ہے۔تمہیں ان اخراجات کا فکر کم ازکم اتنا تو ہونا چاہیے جتنا اپنی ضروریات کا فکر رکھتے ہو۔میں آخر میں تمہیں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ ہر قسم کی لغو بحثوں کو چھوڑ دو۔ان سے نہ تمہارے دین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ دنیا کو۔آپس میں تنازعات اور جھگڑوں کو چھوڑ دو اور محبت اور رحم کا برتاؤ کرو۔بڑے چھوٹوں کو اپنا بھائی سمجھیں اور ان کی تحقیر نہ کریں۔چھوٹے بڑوں کا ادب کریں۔چاہیے کہ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔اور اگر ایک شخص زیادتی کرتا ہے تو دوسرا بجائے بالمقابل جواب دینے کے صبر سے کام لے۔ان اغراض کے لئے جو اس سلسلہ کے اہم اغراض ہیں چندہ دینے کو اپنے اوپر فرض کرلو۔دنیا کی حرص کو کم کرو اور ہر ایک قسم کے ناجائز طریق حصول روپیہ کو سخت آگ سمجھو۔میں نے محض تمہاری خیرخواہی کے لئے اور تمہارے ساتھ ہمدردی کی وجہ سے یہ باتیں تم کو کہی ہیں۔اگر تم ان باتوں کو مان لو گے تو دنیا اور آخرت میں سکھ پاؤ گے۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔نور الدین ۷؍اکتوبر ۱۹۱۱ء (البدر جلد ۱۱ نمبر ۲، ۳ مورخہ ۹؍نومبر۱۹۱۱ء صفحہ ۸،۹)