ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 472 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 472

بے فائدہ بحث فرمایا۔بعض لوگ بے فائدہ بحثوں میں پڑتے ہیں۔مثلاً یہ کہ آنحضرتﷺ کے والدین مومن تھے یا کافر تھے؟ یہ بیہودہ بحث ہے۔آنحضرت کا زمانہ دن کا زمانہ تھا جبکہ سورج روشن تھا۔آنحضرت سے قبل کا زمانہ رات کا زمانہ تھا۔رات کے وقت میں جو لوگ ہوتے ہیں ان پر کفر و اسلام کا فتویٰ کیا۔وہ تو اندھیرے میں چلے گئے۔وہ لوگ بڑے گناہ گار ہوتے ہیں جو مصلح کا زمانہ پاتے ہیں اور پھر اس کا انکار کرتے ہیں۔رات کو غفلت کا وقت ہوتا ہے۔مگر جب جگانے والا آگیا تو اس کا نہ ماننے والا ملزم ہوتا ہے۔قرآن کی قدر کرو ایک روز درس قرآن کریم ختم کرتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھ دے! اللہ چاہے تو اپنے فضل سے تمہارے دل میں کوئی ایک بات بٹھا دے۔اللہ کی کتاب کی قدر کرو۔پھر سمجھو اور عمل کرو۔بخل کے دور کرنے کا علاج فرمایا۔بخل کے دور کرنے کا علاج یہ ہے کہ جب ایک پیسے کا بخل ہو تو دو پیسے دے دینے چاہئیں۔اور دو پیسے کا بخل ہو تو چار دے دینے چاہئیں۔اس کا میں نے جوانی میں خوب تجربہ کیا ہے اور بہت فائدہ اٹھایا ہے۔عزت میسر ہو تو مغرور ہوکر ہلاک نہ ہوجاؤ سورۃ القصص کے آٹھویں رکوع کے درس کے بعدفرمایا کہ اس رکوع کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی کو کسی قسم کی عزت میسر ہو تو اس پر مغرور ہوکر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالے۔خدا تعالیٰ بڑا قادر ہے اسے دیر نہیں لگتی۔اللہ سے ڈرو۔اس سے خوف رکھا کرو۔بدی کا نتیجہ کبھی نیک نہیں ہوسکتا اور نیکی کا نتیجہ کبھی بُرا نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ تمہیں نیکی کی توفیق دے۔آمین۔جبر کے قائل لوگ فرمایا۔جو لوگ اپنے کو جبریہ کہتے ہیں وہ دل سے اس عقیدہ کو نہیں مانتے۔کیونکہ