ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 471
قرض سے بچنے کا علاج ایک شخص نے عرض کیا کہ میں مبلغ پچیس ہزار روپے کا مقروض ہوں۔فرمایا۔اس کے تین علاج ہیں۔(۱) استغفار کرو۔(۲) فضولی چھوڑ دو۔(۳) ایک پیسہ بھی ملے تو قرض خواہ کو دے دو۔یقین فرمایا۔کوئی عقلمند جان بوجھ کر کنوئیں میں نہیں گرتا، آگ میں نہیں گھستا بلکہ کوئی جانور بھی اپنے آپ کو پہاڑ سے نہیں گراتا۔کیوں؟ اس واسطے کہ اسے یقین ہے کہ اگر میں ایسا کروں گا تو تباہ ہوجاؤں گا، ہلاک ہوجاؤں گا۔یہ یقین ہے جو اسے موت سے بچاتا ہے اور دینی معاملات میں اسی یقین کی کمی ہے جو لوگوں سے گناہوں کا ارتکاب کراتی ہے۔دعویٰ تو ہے کہ ہم خدا، نبی، قرآن اور جزاء و سزا پر ایمان رکھتے ہیں۔لیکن یہ یقین اور ایمان اگر فی الواقع ہے تو پھر کیوں دغا اور فریب عام ہے۔یقین تو بدی سے روکتا ہے۔کوئی بچہ اپنی ماں کے سوائے دوسری عورت کے پاس نہیں جاتا۔پھر لوگ کیوں اپنے خدا کو چھوڑ کر دوسرے کے پاس جاتے ہیں۔اگر جزاء اور سزا پر ایمان اور یقین ہے تو پھر احکام الٰہی کی خلاف ورزی کیوں ہے؟ یاد رکھو جتنی یقین میں کمی ہے اتنا ہی انسان بدی کا مرتکب ہوتا ہے۔بہانے بنانے سے کچھ فائدہ نہیں سیدھا ہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم نہیں مانتے۔ستاری سے فائدہ اٹھاؤ فرمایا۔انسان بدی اور بدکاری کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس پر ستاری کرتا ہے، پردہ پوشی کرتا ہے، رحم کرتا ہے۔انسان رات کو بدی کرتا ہے صبح اس کے ماتھے پر لکھی ہوئی نہیں ہوتی۔کیوں؟ اس واسطے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے رحم سے فائدہ اٹھائے اور توبہ کرے اور آئندہ بدی سے پرہیز رکھے۔بدی سے بچنے کا نسخہ فرمایا۔بدی سے بچنے کا یہ گُر ہے کہ انسان علم الٰہی کا مراقبہ کرے۔سوچے اور فکر کرے اور بار بار اس بات کو دل میں لائے اور اس پر اپنا یقین جمائے کہ خدا علیم ہے، خبیر ہے۔وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے۔میرے ہر فعل کی اس کو خبر ہے۔اس طرح ریاضت کرنے سے انسان بدی سے بچ جاتا ہے۔