ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 473 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 473

وہ اپنے دنیاوی کاموں میں خوب خوب زور لگاتے ہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں جاتے۔پھر دینی احکام کی بجاآوری میں جبر کے قائل ہیں۔حضرت مولانا روم نے کیا خوب فرمایا ہے۔؎ اشقیا در کارِ عقبے جبری اند اولیاء در کار دنیا جبری اند قیامِ نماز فرمایا۔ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے لذت نہیں ملتی تو اس کو سو چنا چاہیئے کہ یہ بھی خدا کا فضل ہے کہ میں نے نماز تو پڑھ لی۔دوسرا اس سے اعلیٰ ہے وہ نماز سمجھ کر پڑھتا ہے مگر دنیوی خیالات نماز میں بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے تو اس کو بھی خوش ہونا چاہیئے کہ سمجھ کر تو نماز پڑھنی نصیب ہوئی۔تیسرا لذت وہی پاتا ہے۔اس کو بھی خوش ہونا چاہیئے۔اسی طرح انسان ترقی کرسکتا ہے۔شکر کرنے سے بھی ترقی ہوتی ہے۔اگر پہلے ہی نماز کو اس خیال سے کہ لذت نہیںملتی کوئی چھوڑ دے تو وہ کیا ترقی کرے گا۔ایک مبشر کشف فرمایا۔ایک دفعہ مجھے رؤیا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی کمر پر اس طرح اٹھا رکھا ہے جس طرح چھوٹے بچوں کا مشک بناتے ہوئے اٹھاتے ہیں۔پھر میرے کان میں کہا۔تُو ہم کو محبوب ہے۔کھجور فرمایا۔حدیث میں آیا ہے کہ کھجور مومن کی پھوپھی ہے۔اس پر بعض آریاؤں نے مذاق اڑایا ہے لیکن ان کو اس کی و جہ معلوم نہیں۔ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ کھجور کا درخت آدم کی بقیہ مٹی سے بنا ہے۔ہر چیز جب بنائی جاتی ہے تو اس کا کچھ بقیہ رہ جاتا ہے جو زیادہ ضروری اور کارآمد نہیں ہوتا لیکن اسی کا جزو ضرور ہوتا ہے۔کھجور ہی ایک ایسا درخت ہے جس کا کوئی جزو بھی خراب اور بے مطلب نہیں ہوتا۔اس پر حوادث بھی کم اثر کرتے ہیں۔مومن کو بھی ایسا ہی بننا چاہیئے۔حمد و ثنا فرمایا۔حمد کا لفظ قرآن شریف میں بھی آیا ہے اور حدیث میں بھی۔لیکن ثناء کا لفظ قرآن شریف میں نہیں آیا البتہ حدیث میں آیا ہے۔اور یہ غلط ہے کہ حمد کا لفظ صرف خدا کے لیے مخصوص ہے اور اوروں کے لیے جائز نہیں۔دیکھو