ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 448 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 448

ہے۔بغیر دقت اور تکلیف کے دنیا میں کچھ میسر نہیں آتا۔بالمقابل ہندو قوم محنت کرتی ہے ہر ایک مشکل میں سے جس طرح بن پڑتا ہے گزر جاتی ہے۔اس واسطے مسلمانوں کے بالمقابل کامیاب ہوتی ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ سستی کو چھوڑ دیں۔ہر بات کو مشکل اور تکلیف دہ کہہ کر گھر میں نہ بیٹھ رہیں بلکہ کام کریں۔مباحثہ تحریری ہونا چاہئے میرٹھ میں کسی مولوی صاحب نے احمدی برادران سے مباحثہ کرنا چاہا تھا۔برادران میرٹھ نے یہاں خط لکھا اور یہاں سے شرائط مباحثہ لکھ کر روانہ کردی گئیں۔جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ مباحثہ تحریری ہوگا۔اس شرط کو مولوی صاحب غیراحمدی نے منظور نہ کیا اور جواب میں لکھا کہ تم احمدی لوگ خائف ہو اس واسطے ایسی شرائط لگاتے ہو۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مومن بہادر ہوتا ہے وہ کسی کی بات سے خائف نہیں ہوتا۔یہ عجیب بات ہے کہ وہ ہمیں خائف بتلاتا ہے۔کیا وہ شخص خائف ہے جو اپنے ہاتھ کی تحریر دشمن کے قبضہ میں دینا چاہتا ہے یا وہ شخص خائف ہے جو اپنی تحریر فریق مخالف کو دینا پسند نہیں کرتا۔ہم تو کہتے ہیں کہ ہماری تحریر لے لو اور اپنی بھی تحریر دو۔فرمایا۔زبانی بحث میں آوازیں ہوا میں اڑ جاتی ہیں۔ہر فریق پیچھے سے کہہ سکتا ہے کہ میں نے یہ بات کہی تھی یا نہیں کہی تھی۔ہوا کے پرندوں کو کون پکڑے جو اس امر کا ثبوت ہوسکتے ہیں کہ آیا فی الواقعہ اس نے کیا کہا تھا۔تحریر میں جو بات آجاتی ہے وہ مضبوط ہوجاتی ہے اس سے کوئی انکار نہیںکرسکتا۔اس واسطے ہم ہمیشہ تحریری مباحثات کو پسند کرتے ہیں۔علاوہ ازیں تحریر کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے علاوہ جو حاضر ہوں دوسرے لوگ بھی بعد میں ان تحریروں کو پڑھ کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی تعلیم کو کتاب کے رنگ میںپیش کیا ہے اور فرمایا ہے (البقرۃ:۳)۔۲۶؍ستمبر۱۹۱۱ء نو قسم کے مفسد فرمایا۔جب اللہ تعالیٰ ایک جماعت بنانے کا ارادہ کرتا ہے اور کوئی مصلح دنیا میں بھیجتا ہے تو انہیں لوگوں میں سے جن کی وہ اصلاح کرنا چاہتا ہے ایک مفسد گروہ پیدا ہوجاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وبارک وسلم جیسے شاندار نبی کے زمانہ میں بھی ایسے مفسد کھڑے ہوئے اور وہ نو طرز کے آدمی تھے۔اور مفسد عموماً نو قسم کے ہی ہوتے ہیں۔سورہ شعراء میں ان کی تفصیل ہے۔یہ لوگ آپ کے کاموں میں بڑے ہارج اور مفسد ہوئے۔وہ کوئی معمولی آدمی نہ تھے بلکہ بڑے درجہ کے لوگ تھے۔اس واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارتوں کے سبب اور ان کے ہدایت کی طرف رجوع نہ کرنے کے سبب بہت غم اور حزن تھا کہ یہ لوگ ہمارے کام میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ایسے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کو تشفی دیتا ہے۔اور اگر خدا کی طرف سے تشفی نہ ہوتی تو وہ غم ناقابل برداشت ہوجاتا۔واعظ اور قاضی میں فرق فرمایا۔ناصح اور قاضی و مفتی میں بڑا فرق ہے۔قاضی و مفتی کے سامنے اگر ایک شخص پیش ہو کہ اس نے شراب پی ہے تو وہ گواہ طلب کریں گے، ملزم سے جواب طلب کریں گے۔ممکن ہے وہ انکار کرے یا بیماری کا عذر کرے کہ ڈاکٹر نے پلادی۔یا کہے کسی نے جبراً پلادی۔سب باتوں کو سن کر قاضی فیصلہ دے گا اور اسے بری کرے گا یا سزا دے گا۔لیکن یہ اس کا کام نہیں کہ وہ نصیحت شروع کرے۔برخلاف اس کے ناصح کا یہ کام نہیں کہ وہ تحقیقات کرے کہ آیا جو شخص اس کے سامنے ہے اس نے فی الحقیقت کوئی برا کام کیا ہے یا نہیں۔بلکہ اس کا کام نصیحت کرنا ہے۔وہ نیکی کی خوبیاں ظاہر کرتا ہے اور برائی کی بدیاں بتلا دیتا ہے۔فرمایا۔مجھے قاضی و مفتی بننے کا شوق نہیں۔میں جو کچھ کہتا ہوں یہ ناصحانہ باتیں ہیں۔بعض لوگوں کو غلطی لگتی ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے میرے معاملہ میں کوئی تحقیقات نہیں کی اور نصیحت کرتے ہیں لیکن نصیحت کے لیے تحقیقات کی ضرورت نہیں۔